BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضائی حملے کم، اب غزہ کی طرف پیش قدمی
مصر اور حماس کے درمیان قاہرہ میں سفارتی سطح پر رابطوں میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں

غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں اور اب اس کی فوج نے آہستہ آہستہ غزہ کے گنجان آباد علاقے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

غزہ شہر کے اطراف میں شیلنگ کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔ حماس کی طرف سے پیر کو نو راکٹ یا پھر مارٹر گولے داغے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے سرنگوں، حماس کے اسلحے کے ذخائر اور حماس کے شدت پسندوں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔

گزشتہ شب اسرائیلی طیاروں اور توپخانے نے بارہ مرتبہ غزہ کو نشانہ بنایا جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد نو سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل کے ریزرو فوجی بھی غزہ کی لڑائی میں اپنی باقاعدہ فوج کے ساتھ ہیں۔ پیر کو پانچ فلسطینیوں کی ہلاکت کی خبر آئی ہے جن میں حماس کے ایک شدت پسند بھی شامل ہیں۔اس لڑائی میں اب تک تیرہ اسرائیلی مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ گو لڑائی میں شدت آئی ہے لیکن اس کے زمینی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے قریب ہے۔

ادھرمصر اور حماس کے درمیان قاہرہ میں سفارتی سطح پر رابطوں میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔

مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے جن عوامل کی ضرورت ہے وہ اپنے اپنے مقام پر ہیں۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ’مجھے امید ہے کہ ہم مل کر معاہدے کو ایک شکل دے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے لیکن اس کے لیے کڑی محنت ضروری ہے اور اس کا قابلِ اعتبار ہونا بھی اہم ہے۔‘

فلسطینی طبی شعبے کے حکام کے مطابق اتوار کو رات گئے تک غزہ کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں چالیس افراد مارے گئے جن میں سے سترہ غزہ شہر میں ہلاک ہوئے۔


غزہ میں کام کرنے والے دو نارویجن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاقے کے مرکزی ہسپتال کا نظام تباہی کے قریب ہے اور مریض بنیادی طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کے نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ اور ڈاکٹر فاس نے کہا ہے کہ ہسپتال میں لائے جانے والے مریضوں میں سے نصف عام شہری ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے بارہ ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
قرارداد کا متن
غزہ فائربندی، سکیورٹی کونسل کی قرارداد
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
غزہتیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
غزہاسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
اسرائیل چاہتا کیا ہے؟
فوجی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی مقاصد کیا ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد