فضائی حملے کم، اب غزہ کی طرف پیش قدمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں اور اب اس کی فوج نے آہستہ آہستہ غزہ کے گنجان آباد علاقے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ غزہ شہر کے اطراف میں شیلنگ کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔ حماس کی طرف سے پیر کو نو راکٹ یا پھر مارٹر گولے داغے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے سرنگوں، حماس کے اسلحے کے ذخائر اور حماس کے شدت پسندوں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ شب اسرائیلی طیاروں اور توپخانے نے بارہ مرتبہ غزہ کو نشانہ بنایا جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد نو سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل کے ریزرو فوجی بھی غزہ کی لڑائی میں اپنی باقاعدہ فوج کے ساتھ ہیں۔ پیر کو پانچ فلسطینیوں کی ہلاکت کی خبر آئی ہے جن میں حماس کے ایک شدت پسند بھی شامل ہیں۔اس لڑائی میں اب تک تیرہ اسرائیلی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ گو لڑائی میں شدت آئی ہے لیکن اس کے زمینی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے قریب ہے۔ ادھرمصر اور حماس کے درمیان قاہرہ میں سفارتی سطح پر رابطوں میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔ مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے جن عوامل کی ضرورت ہے وہ اپنے اپنے مقام پر ہیں۔ سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ’مجھے امید ہے کہ ہم مل کر معاہدے کو ایک شکل دے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے لیکن اس کے لیے کڑی محنت ضروری ہے اور اس کا قابلِ اعتبار ہونا بھی اہم ہے۔‘ فلسطینی طبی شعبے کے حکام کے مطابق اتوار کو رات گئے تک غزہ کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں چالیس افراد مارے گئے جن میں سے سترہ غزہ شہر میں ہلاک ہوئے۔
غزہ میں کام کرنے والے دو نارویجن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاقے کے مرکزی ہسپتال کا نظام تباہی کے قریب ہے اور مریض بنیادی طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کے نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ اور ڈاکٹر فاس نے کہا ہے کہ ہسپتال میں لائے جانے والے مریضوں میں سے نصف عام شہری ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے بارہ ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس اسرائیل’فائربندی اصولوں‘پر راضی07 January, 2009 | آس پاس غزہ سفارتکاری، آئندہ چوبیس گھنٹے اہم07 January, 2009 | آس پاس فائربندی کے اصول قبول، جنگ جاری08 January, 2009 | آس پاس غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس فائربندی قرارداد منظور، رات کو پچاس حملے09 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||