BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2009, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نہتے شہریوں پر اسرائیلی فائرنگ‘
اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

بی بی سی اور حقوقِ انسانی کے لیےکام کرنے والے ایک اسرائیلی گروپ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں لڑائی سے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی عوام پرگولیاں چلائی ہیں۔ تاہم اسرائیل نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔

غزہ اور اسرائیل میں موجود بی بی سی کے صحافیوں نے ان اطلاعات کی تفصیلات جمع کی ہیں جن کے مطابق غزہ کے کچھ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے نقل مکانی کی کوشش کی تو اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کی۔ ان شہریوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ نے سفید پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

بی بی سی اور حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے اسرائیلی گروپ بیت السلام کے سامنے دیے جانے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک ایسی عورت کو بھی سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جو اسرائیلی اعلان کے بعد سفید پرچم تھامے اپنے گھر سے باہر نکلی تھی۔

اسرائیلی فوج نے اس الزام کو’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے اور اسرائیل کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کے غزہ میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات بھی ممکن نہیں۔ بیت السلام کے مطابق بھی ان کے پاس اس بیان کی تصدیق کے ذرائع نہیں لیکن انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اس بیان کو عام کیا جانا چاہیے۔

امدادی اداروں کو محصور فلسطینیوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

بی بی سی نے ایک ایسے خاندان کے اراکین سے بھی بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ لڑائی کی وجہ سے اپنےگھر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اور جب انہوں نے تین گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران پانی اور خوراک کی تلاش میں باہر جانے کی کوشش کی تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔

غزہ کے جنوب مشرقی علاقے کے گاؤں خوزہ سے تعلق رکھنے والے منیر شفیق النجار نے بین الاقوامی ریڈ کراس اور بیت السلام گروپ کو پیر کو پیش آنے والے ان واقعات کی تفصیل فراہم کی جن میں اس کے خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے۔

منیر شفیق نے بی بی سی کو بھی بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی فوج نے علاقے پر گولہ باری کی اور اتوار کی رات کو اس کے بھائی کا گھر تباہ رک دیا۔ اس کے بعد اس کے خاندان کے پچھہتر افراد اس کےگھر میں محصور تھے جسے اسرائیلی فوج نے گھیرے میں لے لیا تھا۔

منیر کے مطابق پیر کو انہوں نے ایک اعلان سنا جس میں اسرائیلی فوج کہہ رہی تھی کہ ’ یہ اسرائیل کی دفاعی فوج ہے اور ہم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر سکول میں چلے جائیں۔خواتین اس عمل میں پہل کریں اور پھر مرد جائیں‘۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں سے علاقہ خالی کرنے کو کہا ہے

منیر کا کہنا ہے کہ ’اس پر ہم نے دو، دو کی ٹولی میں خواتین کو بھیجنے کا فیصلہ کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے باہر نکلنے والی خاتون ان کے عم زاد کی اہلیہ اڑتالیس سالہ روہیہ النجار تھیں جنہیں گھر سے پچاس فٹ کی دوری پر موجود فوج نے سر میں گولی مار دی۔

روہیہ کی بیٹی بھی فائرنگ کا نشانہ بنی لیکن وہ رینگ کر دوبارہ گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔

منیر النجار کے مطابق اس واقعے کے کئی گھنٹے بعد تک ان کے اہلِ خانہ اتوار کو ہونے والے گولہ باری سے زخمی افراد کو محفوظ راستے سے باہر نکالنے کے لیے ہلالِ احمر، انسانی حقوق کی تنظیموں اور رام اللہ میں فلسطینی حکام کو فون رکتے رہے لیکن کوئی مدد کو نہ آیا۔

’اس کے بعد ہم نےفیصلہ کیا اگر ہمیں مرنا ہی ہے تو ہم بھاگیں گے اور سب ساتھ ہی مر جائیں گے اور جب ہم نے ایسا کیا تو انہوں نے ہم پر ایک ٹینک پر نصب مشین گن جیسے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی‘۔

منیر کے مطابق اس فائرنگ سے ان کے تین رشتہ دار چوّن سالہ محمد سلمان النجار، ستائیس سالہ احمد جمعہ النجار اور اسّی سالہ خلیل حمدان النجار ہلاک ہوگئے۔

منیر کا کہنا تھا کہ گھر سے باہر نکلنے والے تمام بالغ افراد کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے تھے۔انہوں نے کہا کہ’وہ(فوجی) یہ بھی جانتے تھے کہ یہ شخص ایک بوڑھا ہے کیونکہ وہ بہت قریب تھے‘۔

News image
 بین الاقوامی ریڈ کراس کی جانب سے بھی بارہا یہ کہا گیا ہے کہ انہیں لڑائی کی وجہ سے اپنےگھروں میں محصور فلسطینیوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غزہ میں ریڈ کراس کے ترجمان ایاد ناصر کے مطابق ایمبولنس کا عملے کو ان علاقوں سے آنے والی مدد کی درخواستوں پر عمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں ریڈ کراس کی تاحال مکمل رسائی نہیں ہے۔

اسی خاندان کے ایک اور رکن ریاض ذکی النجار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہی واقعہ دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہمیں کہا کہ ہمیں صرف قصبے کے مرکز میں واقع سکول تک جانا ہے۔ہم نے پہلے عورتوں کو جمع کیا پھر بچوں کو سروں پر سفید رومال پہنا کر اپنے کندھوں پر سوار کیا۔ جب ہم چل رہے تھے تو عورتوں نے فوجیوں کو دیکھا اور انہیں چیخ چیخ کر بتانے لگیں کہ ہمارے ساتھ بچے ہیں۔ لیکن انہوں نے ہم پر گولی چلا دی۔ میری آنٹی سر میں گولی لگنے سے ماری گئیں‘۔

بی بی سی نے فلسطینی ہلالِ احمر کے لیے کام کرنے والے ایک طبی کارکن مروان ابو ردا سے بھی بات کی ہے جن کے مطابق انہیں جائے وقوعہ پر مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر بلایا گیا۔ تاہم مروان کے مطابق ان پر بھی فائرنگ کی گئی اور انہیں اسرائیلی فائرنگ کے وجہ سے ایک نزدیکی گھر میں شام چھ بجے تک چھپے رہنا پڑا۔

مروان کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہیں وہاں روہیہ کی لاش ملی جس کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک زخمی نوجوان عورت بھی وہاں موجود تھی۔

اس واقعے کے بارے میں اپنے تحریری جواب میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ’ بیت السلام کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں‘۔

 ہم کھڑکی سے بھی باہر نہیں جھانک سکتے کیونکہ ہم پر فائر کھول دیا جاتا ہے۔ ہم نے ہمسایوں سے پانے لینے کی کوشش کی ہے۔خوراک کا ذخیرہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے اور بارہ دن سے بجلی بھی نہیں ہے۔میرے والدین بلند فشارِ خون اور ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان کی دوا بھی ختم ہو چکی ہے۔
داؤد شتوی

اسرائیلی جواب میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فوج جنگ میں شریک نہ ہونے والے فلسطینیوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور یہ حماس ہی ہے جو آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ داغتی ہے‘۔

اسرائیلی فوج پر شہریوں پر فائرنگ کے الزام کی تفصیلات بیت السلام گروپ کو بتائے جانے والے ایک اور واقعہ سے بھی مماثلت رکھتی ہیں۔

اس واقعے میں غزہ شہر کے جنوب میں جوہر الدک کے ایک رہائشی یوسف ابوحجاج نے حقوقِ انسانی کے گروپ کو بتایا تھا کہ کس طرح اس کی والدہ اور بہن کو اس وقت گولیاں لگیں جب وہ سفید جھنڈے اٹھائے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔یوسف ابوحجاج کے مطابق اسرائیلی ٹینک نے ان کےگھر کو نشانہ بنایا تھا اور انہیں اسرائیلی فوج کا اعلان سنائی دیا تھا جس میں عوام سے گھر خالی کرنے کو کہا گیا تھا۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کی جانب سے بھی بارہا یہ کہا گیا ہے کہ انہیں لڑائی کی وجہ سے اپنےگھروں میں محصور فلسطینیوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غزہ میں ریڈ کراس کے ترجمان ایاد ناصر کے مطابق ایمبولنس کا عملے کو ان علاقوں سے آنے والی مدد کی درخواستوں پر عمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں ریڈ کراس کی تاحال مکمل رسائی نہیں ہے۔

ایسے ہی ایک علاقے زیتون کے ایک رہائشی داؤد شتوی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ وہ اور ان کے خاندان کے پینتیس افراد دس دن سے ان کےگھر میں محصور ہیں جسے اسرائیلی فوج نے گھیرا ہوا ہے۔ داؤد کے مطابق’ہم کھڑکی سے بھی باہر نہیں جھانک سکتے کیونکہ ہم پر فائر کھول دیا جاتا ہے۔ ہم نے ہمسایوں سے پانے لینے کی کوشش کی ہے۔خوراک کا ذخیرہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے اور بارہ دن سے بجلی بھی نہیں ہے۔میرے والدین بلند فشارِ خون اور ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان کی دوا بھی ختم ہو چکی ہے‘۔داؤد شتوی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ محصور افراد میں چھ ہفتے سے لے کر پندرہ برس کی عمر کے سترہ بچے بھی ہیں۔

 ہم نےفیصلہ کیا اگر ہمیں مرنا ہی ہے تو ہم بھاگیں گے اور سب ساتھ ہی مر جائیں گے اور جب ہم نے ایسا کیا تو انہوں نے ہم پر ایک ٹینک پر نصب مشین گن جیسے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔
منیر شفیق النجار

فلسطینی ہلالِ احمر کے لیے کام کرنے والے ایک ایمبولینس ڈرائیور کے مطابق انہیں پینتیس افراد پر مشتمل اس خاندان کے بارے میں اطلاع ملی مگر وہ ایک فوجی علاقہ ہے اور وہاں پہنچنے کے لیے ایمبولنس کا عملہ اسرائیل فوجیوں سے تال میل بنانے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی اسرائیلی فوج انہیں محفوظ رستہ دیتی ہے وہ اس جگہ چلے جائیں گے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان جیکب دلال کے مطابق فوج محفوظ راستہ فراہم کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ لیکن حماس اس علاقے اور ’بالخصوص ایسے ہی مکانات سے راکٹ داغ رہی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں وہ حماس کے کارکن ہو سکتے ہیں جو چھپ کر فوجیوں پر حملہ کرنا چاہتے ہوں۔ اگر آپ فوجیوں کی نظر سے دیکھیں تو یہ انتہائی مشکل ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ اس دروازے کے عقب میں کون ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’حماس جنگ میں وقفے کو ہی حملوں کے لیے استعمال کرتی ہے‘ اور اگر اسرائیلی فوجیوں پر وقفے کے دوران فائرنگ کی جائے تو وہ جوابی فائرنگ کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ زیتون وہ قصبہ ہے جہاں اسرائیلی فوج اور حماس کے کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور اس کے اندر تک پہنچنے کے لیے ریڈ کراس کے قافلوں کی کوششیں بھی ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے ریڈ کراس کے مطابق اسے چار ایسے بچے ملے تھے جو چار دن تک اپنی ماؤں کی لاشوں کے پاس بھوک پیاسے بیٹھے رہے تھے۔


اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
غزہ احتجاجغزہ آپریشن، تصاویر
غزہ: آپریشن کا اٹھارواں دن، تصاویر
جائز یا ناجائز؟
اسرائیلی اس جنگ کو بقا کی جنگ کہتے ہیں
 غزہاسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
غزہاسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد