BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلیوں کیلیےیہ جنگ جائز کیوں؟
اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ان کی زبوں حالی کی کوئی دوسری مثال نہیں اور جو ہو رہا ہے وہ جائز ہے۔
مشرقِ وسطٰی کے امور کے لیے بی بی سی کے ایڈیٹر جرمی بووین جو حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی پر ڈائری لکھ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ آج اخبار انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون میں ایتھان برونر نے ایک شاندار آرٹیکل لکھا ہے۔اس آرٹیکل میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے کہ اسرائیلی کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جائز جنگ لڑ رہے ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ یہ جائز جنگ نہیں ہے۔

برونر نے فلسفے کے ایک پروفیسر سے بات کی جس نے اسرائیلی فوج کا ضابطۂ اخلاق لکھنے میں مدد کی تھی۔ یہ پرفیسر کہتے ہیں کہ بہت سے اسرائیلی محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حماس کو مشرقِ وسطٰی میں اپنے لیے ایک بڑے خطرے سے تعبیر کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ان کی زبوں حالی کی کوئی دوسری مثال نہیں اور جو ہو رہا ہے وہ جائز ہے۔

جب میں نے اسرائیلی اپوزیشن پارٹی کے سربراہ بنیامین نتنیاہو سے غزہ میں اسرائیلی فوج کا حملہ شروع ہونے سے قبل بات کی تو انہوں نے غزہ کی کارروائی کا موازنہ انیس سو چالیس میں جرمنی کے خلاف برطانوی ردِ عمل سے کیا۔

اسرائیل میں ہر زاویۂ نگاہ سے یہی پیغام ملتا ہے۔

مجھے کل غزہ میں شالوم کراسنگ پر اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان سے بات کرنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے اسرائیل موقف کے ہر پہلو پر گفتگو کی۔

اسرائیل، فلسطینیوں کو بقول ایہود اولمرت، ’آہنی مکا‘ پہلے بھی دکھا چکا ہے

یعنی اسرائیلی یہ جنگ اپنے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔یہ کہ اسرائیل فوج اس بات کے لیے بہت تکلیف اٹھاتی ہے کہ عام شہری ہلاک نہ ہوں۔اور یہ کہ دنیا کا ہر ملک اپنے اوپر حملے کی صورت میں اسی طرح کا ردِ عمل ظاہر کرے گا جیسا کہ اسرائیلی فوج کا ہے۔

میری سوچ اس اسرائیلی موقف پر ٹھہرگئی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک حملے کی صورت میں وہی ردِ عمل ظاہر کرے گا جو اسرائیلی فوج کا ہے۔

کیا واقعی؟

موازنے کرنا مشکل ہے کیونکہ عربوں اور یہودیوں کے درمیان سو سال پرانی کشمکش اپنی قسم کی واحد کشمکش ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دنیا میں کسی اور جگہ لمبے عرصے پر محیط کوئی اور تلخ یا خونی کشمکش نہیں ہے۔

لیکن میں کسی ایسی کشمکش سے بھی واقف نہیں ہوں جس کی بین الاقوامی سطح پر اتنی زیادہ اور پیچدہ فروعات ہوں۔ اور پھر میں کسی ایسی کشمکش سے بھی شناسا نہیں ہوں جس میں دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی اتنی گنجائش ہو، بھلے انہوں نے زمین کے اس چھوڑے سے ٹکڑے پر کبھی پاؤں نہیں رکھا۔

مجھے شمالی آئرلینڈ اور یہاں کیے جانے والے موزانے کبھی پسند نہیں آئے۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ویسے بھی مشرقِ وسطٰی کے بارے میں کچھ لکھنا یا نشر کرنا دشمن پیدا کرنے کا ’کافی اچھا طریقہ‘ ہے۔

اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بقا کے لیے لڑ رہے ہیں۔ لیکن ذرا یوں بھی غور کیجیئے۔

کئی سال تک برطانیہ کو شمالی آئرلینڈ میں بغاوت کا سامنا رہا۔ کبھی کبھی یہ سلسلہ ہلکے درجے کی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا۔ لہذا اس طرح کے الفاظ اور اصطلاحات جیسی ہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے حوالے سے سنتے ہیں، اتنی زیادہ نہیں سنی گئیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیا موازنہ کرنا مشکل ہے کیونکہ عربوں اور یہودیوں کے درمیان سو سال پرانی کشمکش اپنی قسم کی واحد کشمکش ہے۔

مختلف اوقات میں آئی آر اے برطانوی زمین پر بم نصب کرتی تھی جس سے کافی زیادہ نقصان بھی ہوتا تھا۔ تین دہائیوں پر محیط اس کشمکش کے دوران برطانوی سکیورٹی فوج کی کارروائیاں بہت متنازع تھیں اور آج بھی ہیں۔ کبھی کبھی برطانوی فوج نے بےگناہوں کو بھی ہلاک کیا۔

لیکن برطانیہ نے کبھی بھاری ہتھیار، تیز رفتار جیٹ طیارے، فضائی حملے اور لڑاکا ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیے۔

اور اب یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہاں کے نیم فوجی دستوں سے کئی برسوں پر پھیلے ہوئے رابطے بھی تھے۔برس ہا برس تک بات چیت ہوئی، طویل عرصے سے جیل میں پڑے ہوئے قیدیوں کو امن کی قیمت کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ ان میں وہ قیدی بھی شامل تھے جنہیں ’اسں طرف‘ کے کہنے والے ایسے قیدی کہتے تھے جن کے ’ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے‘۔

اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اسرائیل نے (بقول اس کے اپنے نقطۂ نظر سے) اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے غزہ کے فلسطینیوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ اس سے اسرائیل کے خلاف وہ نفرت جو بہت سے اہلیانِ غزہ کے دلوں میں پہلے سے تھی، اور بڑھ رہی ہے۔

اسرائیل نے بقولِ وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کے ’آہنی مکا‘ پہلے بھی کئی دکھایا ہے لیکن اس کے شہری آج بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

جب غزہ میں موجودہ اسرائیلی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچے گی تو کیا ان اسرائیلیوں کی سوچ، اب کی بار، مختلف ہوگی؟

’لاشوں کے ٹکڑے‘
’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں ہیں‘
تباہی ہی تباہی
ایسے مناظر کے دل دہل جائے: ریڈ کراس
غزہتیرہواں دن
غزہ،حملوں کا تیرہواں دن، تصاویر
حماس کی تباہی؟
حماس کی تباہی میں عربوں کی دلچسپی کیوں؟
غزہاسرائیل کیا چاہتا ہے؟
حماس سے چھٹکارا یا انتخابات کی تیاری
اسرائیل چاہتا کیا ہے؟
فوجی کارروائی کے پیچھے اسرائیلی مقاصد کیا ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد