اوسلو سے غزہ تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں وہ منظر قابل دید تھا جب کئی عشروں سے دو متحارب قوتیں ایک گوریلا جنگ کا معمار اور فلسطینی مزاحمت کی علامت یاسر عرفات اور قابض ملک اسرائیل کے جرنیل وزیراعظم اسحق رابن قدم سے قدم ملا کر وائٹ ہاؤس کے لان میں پہلی مرتبہ ہزاروں افراد کے سامنے آئے۔ جہاں انہیں اوسلو امن معاہدے نامی دستاویز پر مہر تصدیق ثبت کرنی تھی۔اس سے قبل یاسر عرافات کا امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا۔ اوسلو امن معاہدے کو اسرائیل فلسطین کے پینتالیس سالہ پرانے تنازعے کا تاریخی موڑ قرار دیا جا تا ہے جیسے یاسر عرفات اور اسحاق رابین دونوں نےامید کی کرن طور پر پیش کیا تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ یاسر عرفات اوسلو معاہدے کی بساط پر بہت کچھ ہار کر اٹھے تھے۔ اوسلو دستاویز یاسر عرافات کی قیادت میں فلسطین کی جلاوطن قومی کونسل اور اسرائیل کے درمیان ناروے کی مدد سے 1988 میں شروع ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ تھی جو چھ برس جاری رہے۔ اوسلو معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہونے سے قبل الفتح کے بانی یاسر عرفات اس کے بدلے میں اوسلو معاہدے میں فلسطینی ریاست کے غیر واضح خدوخال طے کیےگئے جس کے پہلے مرحلے میں فلسطینیوں کی جانب سے تشدد ترک کیے جانے کی شرط پر 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے جانے والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء، ان علاقوں کا نظم ونسق چلانے کے لیے فلسطینی انتظامیہ کا قیام پانچ برس کی اعتماد سازی کے بعد دوسرے مرحلے میں فلسطینی ریاست کے ان انتظامات کے پانچ برس بعد فلسطینی ریاست کے حتمی سیاسی مستقبل پر مذاکرات اور فلسطینی ریاست کی حتمی سرحدوں کا تعین اور تیسرے مرحلے پر یروشلم کی حیثیت اور جلاوطن کیے جانے والے فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی کے حق پر گفت و شنید ہونا طے پایا۔ اوسلو معاہدے سے وابستہ امیدیں خواب و خیال ثابت ہوئیں۔ الفتح کے سیاسی دھڑے کے سوا اکثر فلسطینیوں مزاحمت کاروں خصوصاً سب سے بڑی اور منظم تنظیم حماس نے اوسلو معاہدہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ فلسطینیوں کی منزل نہیں۔سب سے زیادہ مایوس وہ لاکھوں فلسطینی ہوئے جو اپنے آباؤاجداد کے گھروں کو واپس لوٹنے کی آس میں جی رہے تھے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن بھی انتہاپسند یہودیوں کی تنقید سے نہ بچ سکے اور ایک جنونی یہودی کی گولیوں کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک طرف حماس کے خود کش حملے جاری رہے تو دوسری جانب یہودی بستیاں تعمیر ہوتی رہیں۔ فلسطینیوں میں شدت پسندی پنپتی رہی جس کا واضح مطلب تھا، اسرائیل کے لیے عدم سلامتی اور اس کا منطقی انجام یہ ہوا کہ امن مذاکرات ناکام ہوتے رہے۔ اسرائیلی ہر برس چودہ مئی کو دھوم دھام سے اپنے قیام کی سالگرہ اور فلسطینی اس تاریخ کو یوم نکبہ یعنی تباہی کے دن کے طور پر مناتے رہے۔
سنہ دو ہزار میں سابق امریکی صدر کلنٹن کے زیر سایہ کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکامی اوسلو معاہدے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ یاسر عرفات نے واپس رملہ پہنچ کر ایک بار پھر مزاحمتی تحریک دوسرے انتفادہ کا اعلان کردیا جو اس امر کا مظہر تھا کہ ترک تشدد کی پالیسی فلسطینیوں کے لیے بار آور ثابت نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اوسلو معاہدہ امن کی ضمانت کیوں نہیں بن پایا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس معاہدے میں اسرائیل نے اپنی سلامتی کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کر دیا جبکہ دراصل امن کا راستہ فلسطینی ریاست سے شروع ہوتا کہ فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام سلامتی کی ضمانت بن سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ فریق یعنی فلسطینیوں کو اس بظاہر امن دستاویز میں نہ تو اپنی منزل واضح دکھائی دے رہی تھی کہ مستقبل میں بننے والی فلسطینی ریاست کے خدو خال کیا ہوں گے اور نہ اس تک پہنچنے کا راستہ چنانچہ اعتدال پسند فلسطینیوں، خود کش حملہ آوروں اور مزاحمتی عناصر کو اوسلو معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی۔ اوسلو معاہدے کے پورے دس برس بعد سنہ 2003 میں امریکہ، یورپی یونین اور روس کا حمایت یافتہ ایک اور امن منصوبہ روڈ میپ یعنی نقشہ راہ کی صورت میں سامنے لایا گیا۔ نقشہ راہ میں ایک بار پھر اوسلو معاہدے والی ناکام حکمت عملی دہرائی گئی۔بظاہر امن کی دستاویز میں اسرائیل فلسطینیوں کے کچھ مقبوضہ علاقوں سے نہ تو فلسطینی ریاست کا واضح نقشہ سامنے رکھا گیا نہ اس کی سرحدوں کا تعین۔
نہ یروشلم کی مستقبل میں سیاسی حیثیت کا ذکر اور نہ ہی بےگھر فلسطینیوں کی واپسی کا کوئی تذکرہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امن منصوبے کی تکمیل یعنی فلسطینی ریاست کی تکمیل کے لیے کسی اوقات کار کا تعین نہیں کیا گیا۔ نقشۂ راہ فلسطینیوں کے لیے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ ثابت نہ ہوسکا۔یہاں تک کہ سنہ 2004 میں چالیس برسوں سے آزاد فلسطینی ریاست کا خواب دیکھنے والی یاسر عرفات کی آنکھیں ہمشہ کے لیے بند ہوگیں۔ الفتح میں قیادت کے فقدان کے باعث اعتدال پسندوں کا کنٹرول رفتہ رفتہ کم اور مغربی طاقتوں کی کوششوں کے باوجود حماس کا کنٹرول مستحکم ہوتا رہا۔ سنہ2005 میں نقشۂ راہ کی ایک شق پر یکطرفہ عمل کرتے ہوئے اسرائیل غزہ سے نکل گیا لیکن الفتح اور حماس کے نظریات میں اختلافات اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ اسرا ئیل کے غزہ سے انخلاء کے بعد اقتدار کی رسہ کشی میں دونوں فلسطینی گروپ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہوگئے۔ تاہم اعتدال پسند الفتح اور شدت پسند حماس کے درمیان ہلاکت خیز جھڑپوں کے باوجود سنہ 2006 کے انتخابات میں الفتح کے مقابلے میں حماس کی واضح کامیابی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ اس خطے میں فلسطینی ریاست کا فیصلہ حماس کی شمولیت کے بغیر صرف اسرائیل کی شرائط پر نہیں ہو سکتا۔ حماس کو غیر موثر بنانے کی کوششوں میں 2008 کی آخری چند سرد راتوں میں غزہ پر بھرپور اسرائیلی حملے کے بارے میں بیشتر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوج کشی سے تاریخ کی اس کتاب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ممکن نہیں ہوگا جس کا ایک ایک باب خوں آلود مزاحمت اور اپنےگھروں کو لوٹنے کے خوابوں پر مشتنمل ہے۔ حماس صرف کسی انتہاپسند تنظیم کا نام ہی نہیں بلکہ اس فکر کا نام ہے جس کی نمائندگی فلسطینیوں کی زندگی کی ہر سطح یعنی یونیورسٹی کے پروفیسر سے لے کر ٹیکسی ڈرائیور تک کی سوچ میں پائی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||