BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2009, 01:33 GMT 06:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزار سے زائد ہلاک، فائر بندی کی کوششیں تیز
 غزہ
اقوامِ متحدہ کے ادارے کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے بیالیس فیصد بچے اور عورتیں ہیں

غزہ پر اسرائیل کی فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے فلسطینوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ فائر بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور اسرائیل کے مرکزی مذاکرات کار فائر بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے مصر پہنچ رہے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ اس کے فوجی محفوظ علاقے کی جانب جانے کی کوشش کرنے والے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی آپریشن بیسویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نےغزہ کو تقریباً چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے جنگجوؤں میں بدھ اور جمعرات کی رات بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق غزہ پر جمعرات کو علی الصبح ہونے والے دو فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد
اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار اٹھائیس ہوگئی ہے جبکہ چار ہزار پانچ سو سے زائد زخمی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق جنگ کی وجہ سے نوے ہزار فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

امدادی اداروں کو زخمیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے

حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں تین سو سے زائد بچے اور چھہتر خواتین ہیں جبکہ زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کی تعداد بالترتیب ایک ہزار چھ سو اور چھ سو اٹھہتر ہے۔ غزہ پر حملے کے بعد سے اسرائیل کے دس فوجیوں سمیت تیرہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کی کوششیں

مصر میں جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں بات چیت کے بعد حماس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فائربندی معاہدے کے نمایاں نکات سے تو متفق ہیں لیکن تفصیلات پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیز فائر معاہدے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے فوراً انخلاء اور مکمل جنگ بندی کی شقیں شامل ہونا صروری ہے۔ قاہرہ میں حماس کے رہنما صالح البردول کے مطابق’ تحریک نے مصری قیادت کو تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے تاکہ وہ غزہ میں ہمارے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور جارحیت کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھ سکے‘۔

News image
تحریک نے مصری قیادت کو تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے تاکہ وہ غزہ میں ہمارے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور جارحیت کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھ سکے۔
صالح البردول

اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق فائر بندی پر بات چیت کے لیے سینئر اسرائیلی دفاعی افسر آموس گیلاد جمعرات کو قاہرہ پہنچ رہے ہیں جہاں انہیں حماس کی جانب سے فائربندی کے معاہدے کے سلسلے میں پیش کی جانے والی تجاویز سے آگاہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل فائربندی پر بات کرتے ہوئے قاہرہ میں حماس کے رنما موسی ابومرزق نے کہا تھا کہ فائربندی حماس کو صرف ایک محدود مدت کے لیے قابل قبول ہوگی اور اس کا ہر تھوڑی دیر بعد اور ضرورتی کے تحت جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے پہلے بھی جنگ بندی کے ایسے معاہدے آزما کر دیکھے ہیں، لیکن ان پر اسرائیل نے کبھی کسی بھی مرحلے پر عمل نہیں کیا۔ تو یہ لازم ہے کہ یہ فائر بندی مختصر مدت کے لیے ہو اور اس کا کسی بھی مرحلے پر جائزہ لینے کے لیے ایک طریقہ کار بنایا جائے‘۔

عام شہریوں پر فائرنگ کے الزامات

بی بی سی اور حقوقِ انسانی کے لیےکام کرنے والے ایک اسرائیلی گروپ بیت السلام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں لڑائی سے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی عوام پرگولیاں چلائی ہیں۔ تاہم اسرائیل نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اسرائیل نے گھروں میں محصور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے سے انکار کیا ہے

اطلاعات کے مطابق یہ واقعات خوزہ اور زیتون کے علاقوں میں پیش آئے ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے پہلے فلسطینی عوام سے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر مرکزی مقامات پر جمع ہو جائیں اور جب لوگ سفید پرچم اٹھائے اپنے گھروں سے نکلے تو اسرائیلی فوجیوں نے ان پر فائرنگ کی۔اطلاعات کے مطابق ایسے واقعات میں ایک خاتون سمیت کم از کم چار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں اسرائیلی فوج کہنا ہے کہ اس پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان اویتال لیبووتز کا کہنا ہے کہ ’ ہم شہریوں پر فائرنگ نہیں کرتے۔ میں نے گزشتہ دو دن میں فلسطینی جانب سے بہت سے الزامات سنے ہیں جن کا ایک بڑا حصہ فرضی ہے۔ ہم معصوم لوگوں کو اور جان بوجھ کرگولی نہیں مارتے۔ ہم صرف اس وقت گولی چلاتے ہیں جب زندگی موت کا مسئلہ ہو یا پھر ہم پر فائر کیا جائے‘۔

اسرائیل مخالف عالمی ردعمل
ادھر جنوبی امریکہ کے ملک بولیویا نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بولیویا دوسرا جنوبی امریکی ملک ہے جس نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔ اس سے قبل وینزویلا بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کر چکا ہے۔

بولیویا کے صدر نے ایوو مورالیز نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر بھی خاصی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’افسوس کے اقوام متحدہ اور خاص طور پر سلامتی کونسل یا کہیے غیر سلامتی کونسل نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیم دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک خصوصی جنرل اسمبلی بلانی چاہیے، اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کی مجرمانہ کارروائی پر ووٹنگ ہونی چاہیے‘۔

شہریوں پر فائرنگ
’نہتے فلسطینی اسرائیلی گولیوں کا نشانہ‘
اوسلو سے غزہ تک
پندرہ برس سے جاری امن کی کوشش ناکام کیوں؟
جائز یا ناجائز؟
اسرائیلی اس جنگ کو بقا کی جنگ کہتے ہیں
غزہ احتجاجغزہ آپریشن، تصاویر
غزہ: آپریشن کا اٹھارواں دن، تصاویر
زخمی بچیغزہ پر غضب
فوجی کارروائی، مظاہرے اور غزہ کے مظلوم
 غزہاسرائیل کا اعتراف
یو این سکول پر حملہ ایک غلطی تھی
عباس کی کشمکش
غزہ پر بمباری اور صدر عباس کی کارکردگی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد