غزہ: اقوام متحدہ کی عمارت، اسرائیلی بمباری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے کے کیمپ پر بمباری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ رد عمل اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر دفاع نے انہیں بتایا کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ بان کی مون نے کہا کہ غزہ میں لوگوں کی تکالیف ناقابل برداشت ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا تھا کہ ان کا مرکزی دفتر اس حملے کا نشانہ بنا جس میں تین لوگ زخمی ہوئے۔ دریں اثناء ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کے نام ایک خط صدر نژاد نے شاہ عبداللہ سے کہا کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور اس مسئلے پر اپنے نظریات بیان کریں۔ احمدی نژاد کی ویب سائٹ پر نشر ہونے والے اس خط میں لکھا ہے کہ جو رہنما اسرائیلی کارروائی پر چپ ہیں یا اس کی حمایت میں ہیں توقع کر رہے ہیں کہ غزہ والوں کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا یا وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بالآخر ناکام ہو جائے گا اور اسرائیلی ریاست ختم ہو جائے گی۔ خلیج تعاون کونسل میں شامل چھ عرب ممالک کا جمعرات کو غزہ کے مسئلے پر اجلاس ہو رہا ہے۔ بان کی مون خطے میں امن کے لیے اب تک کی سب سے اہم کوششوں کے حصہ کے طور پر علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مصر ان کوششوں میں پیش پیش رہا ہے اور فائربندی کے ایک معاہدے پر اتفاق رائے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت مصر اور غزہ کی سرحد پر اسلحے کی سمگلنگ روکنے کے لیے امن فوج تعینات کی جائے گی۔ بی بی سی کے عرب امور کے ایک ماہر نے کہا کہ مصر اور دیگر عرب ممالک کا حماس پر کچھ اثر رسوخ ہے اور کسی طرح بات منوا سکتے ہیں لیکن وہ اسرائیل پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکتے، اس پر صرف اتنا اثر صرف امریکہ کا ہے۔ ادھر اسرائیل نے حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ اس کے فوجی محفوظ علاقے کی جانب جانے کی کوشش کرنے والے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی آپریشن بیسویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نےغزہ کو تقریباً چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے جنگجوؤں میں بدھ اور جمعرات کی رات بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق غزہ پر جمعرات کو علی الصبح ہونے والے دو فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں ایک اندازے کے مطابق جنگ کی وجہ سے نوے ہزار فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں تین سو سے زائد بچے اور چھہتر خواتین ہیں جبکہ زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کی تعداد بالترتیب ایک ہزار چھ سو اور چھ سو اٹھہتر ہے۔ غزہ پر حملے کے بعد سے اسرائیل کے دس فوجیوں سمیت تیرہ شہری ہلاک ہوئے۔ جنگ بندی کی کوششیں مصر میں جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں بات چیت کے بعد حماس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فائربندی معاہدے کے نمایاں نکات سے تو متفق ہیں لیکن تفصیلات پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیز فائر معاہدے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے فوراً انخلاء اور مکمل جنگ بندی کی شقیں شامل ہونا ضروری ہے۔ قاہرہ میں حماس کے رہنما صالح البردول کے مطابق’ تحریک نے مصری قیادت کو تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے تاکہ وہ غزہ میں ہمارے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور جارحیت کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھ سکے‘۔
اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق فائر بندی پر بات چیت کے لیے سینئر اسرائیلی دفاعی افسر آموس گیلاد جمعرات کو قاہرہ پہنچ رہے ہیں جہاں انہیں حماس کی جانب سے فائربندی کے معاہدے کے سلسلے میں پیش کی جانے والی تجاویز سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل فائربندی پر بات کرتے ہوئے قاہرہ میں حماس کے رنما موسی ابومرزق نے کہا تھا کہ فائربندی حماس کو صرف ایک محدود مدت کے لیے قابل قبول ہوگی اور اس کا ہر تھوڑی دیر بعد اور ضرورتی کے تحت جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے پہلے بھی جنگ بندی کے ایسے معاہدے آزما کر دیکھے ہیں، لیکن ان پر اسرائیل نے کبھی کسی بھی مرحلے پر عمل نہیں کیا۔ تو یہ لازم ہے کہ یہ فائر بندی مختصر مدت کے لیے ہو اور اس کا کسی بھی مرحلے پر جائزہ لینے کے لیے ایک طریقہ کار بنایا جائے‘۔ عام شہریوں پر فائرنگ کے الزامات بی بی سی اور حقوقِ انسانی کے لیےکام کرنے والے ایک اسرائیلی گروپ بیت السلام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں لڑائی سے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی عوام پرگولیاں چلائی ہیں۔ تاہم اسرائیل نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعات خوزہ اور زیتون کے علاقوں میں پیش آئے ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے پہلے فلسطینی عوام سے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر مرکزی مقامات پر جمع ہو جائیں اور جب لوگ سفید پرچم اٹھائے اپنے گھروں سے نکلے تو اسرائیلی فوجیوں نے ان پر فائرنگ کی۔اطلاعات کے مطابق ایسے واقعات میں ایک خاتون سمیت کم از کم چار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی فوج کہنا ہے کہ اس پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان اویتال لیبووتز کا کہنا ہے کہ ’ ہم شہریوں پر فائرنگ نہیں کرتے۔ میں نے گزشتہ دو دن میں فلسطینی جانب سے بہت سے الزامات سنے ہیں جن کا ایک بڑا حصہ فرضی ہے۔ ہم معصوم لوگوں کو اور جان بوجھ کرگولی نہیں مارتے۔ ہم صرف اس وقت گولی چلاتے ہیں جب زندگی موت کا مسئلہ ہو یا پھر ہم پر فائر کیا جائے‘۔ اسرائیل مخالف عالمی ردعمل بولیویا کے صدر نے ایوو مورالیز نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر بھی خاصی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’افسوس کے اقوام متحدہ اور خاص طور پر سلامتی کونسل یا کہیے غیر سلامتی کونسل نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیم دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک خصوصی جنرل اسمبلی بلانی چاہیے، اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کی مجرمانہ کارروائی پر ووٹنگ ہونی چاہیے‘۔ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||