BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس میں مسلم، یہودی تناؤ

غزہ
پچھلے چند ہفتوں میں یہودی عبادت گاہوں پر تین حملے ہوئے ہیں

غزہ میں جاری لڑائی کی وجہ سے فرانس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں اور یہودی برادری میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔

یورپ میں مسلمانوں اور یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد فرانس میں ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ اور یہودیوں کی تعداد چھ لاکھ ہے۔

پچھلے چند ہفتوں میں یہودی عبادت گاہوں پر تین حملے ہوئے ہیں اور پچھلے ہفتے مسلمان مظاہرین کی فرانس کی پولیس کے ساتھ مختلف شہروں میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں جاری لڑائی کیوں نہیں رکواتی: احمد

اس کھنچاؤ اور مسلمانوں کے غم و غصے میں احمد پیرس میں ایف ایم چینل چلا رہے ہیں۔ احمد کے پروگرام میں غزہ کے حوالے سے لوگ فون کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں۔

احمد فون کرنے والوں کو کہتے ہیں ’تحمل سے تحمل سے۔ میں آپ کے جذبات سمجھ سکتا ہوں لیکن جو الفاظ آپ استعمال کر رہے ہیں وہ مجھے پسند نہیں۔‘

احمد کا کہنا ہے کہ نو سو افراد سے زائد ہلاکتوں کے بعد ان کا پروگرام سننے والے افراد کہتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں جاری لڑائی کیوں نہیں رکواتی۔ لیکن احمد نے مزید کہا کہ یہ لڑائی فرانس کی نہیں ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے اثرات فرانس میں نہیں آنے چاہئیں۔

’میں اپنا پروگرام سننے والے افراد کو بتاتا ہوں کہ ان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس لڑائی کے ذمہ دار لوگ فرانس سے ہیں۔ یہ ایک بیرونی جنگ ہے اور ہم مسلمان یا یہودی برادری کے افراد کے خلاف کوئی بھی پرتشدد واقع کو برداشت نہیں کریں گے۔‘

فرانس میں مظاہرے
فرانس میں پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں

فرانس کے مختلف شہروں میں پچھلے ہفتے ایکھ لاکھ سے زائد افراد نے غزہ پر حملے کے خلاف مظاہرے کیے۔ زیادہ تر مظاہرین پر امن رہے لیکن پولیس نے ایک سو اسی افراد کو گرفتار کیا اور بہت سے اسرائیلی جھنڈوں کو عرب نوجوانوں نے آگ لگائی۔

اس کے علاوہ پچھلے دو ہفتوں میں تین یہودی عبادت گاہیں اور ایک ریسٹورانٹ پر آگ کے بم پھینکے گئے۔ تاہم یہودی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ستائیس دسمبر سے اس قسم کے تیس حملے کیے گئے ہیں۔

فرانسیسی وزراء نے مسلمان اور یہودی برادری کے رہنماؤں اور سکیورٹی فورسز سے ملاقاتیں کی ہیں۔

سوموار کے روز نوے فرانسیسی تنظیموں نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

عرب کمیشن برائے انسانی حقوق کے قائد کا کہنا ہے کہ وہ وکلاء جو یہ مقدمہ کرنے کے خواہاں ہیں ان میں سے ایک تہائی یہودی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد