BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2009, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران پر نئی امریکی پالیسی کا وعدہ
باراک اوبامہ
ہمیں اس معاملے سے نئے طریقے سے نمٹنا ہوگا:اوباما
امریکہ کے منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ایران کے مسئلے پر نئی اور مختلف حکمتِ عملی اپنائیں گے۔

ایک امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں باراک اوباما نے کہا کہ ’ایران ہمیں درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوگا‘۔

باراک اوباما نے کہا کہ انہیں حزب اللہ کی ایرانی حمایت اور ایران کے جوہری افژودگی کے پروگرام پر تشویش ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے صدر بش کی پالیسی جاری نہیں رکھیں گے اور ایران سے تعلقات کے سلسلے میں مختلف پالیسی اپنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس معاملے سے نئے طریقے سے نمٹنا ہوگا‘۔ باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ اپنے اصل مقصد کو مکمل طور پر واضح کرتے ہوئے باہمی احترام اور بات چیت کی خواہش پر زور دیں گے۔

باراک اوباما ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران سے بات چیت کے سلسلے میں پہلے سے کوئی شرائط عائد نہیں کی جانی چاہیئیں۔انٹرویو کے دوران انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے اس نئی حکمتِ عملی پر’تیزی سے عمل پیرا ہوگی‘۔

اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے مشرقِ وسطٰی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ میں اس وقت ایک ٹیم تشکیل دے رہا ہوں تاکہ بیس جنوری کو ہمارے کام کے پہلے دن ہمیں مشرقِ وسطٰی میں قیام امن کی کوششوں کے لیے بہترین افراد میسر ہوں جو کہ فوراً اس معاملے پر کام شروع کر سکیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد