ایران پر نئی امریکی پالیسی کا وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ایران کے مسئلے پر نئی اور مختلف حکمتِ عملی اپنائیں گے۔ ایک امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں باراک اوباما نے کہا کہ ’ایران ہمیں درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوگا‘۔ باراک اوباما نے کہا کہ انہیں حزب اللہ کی ایرانی حمایت اور ایران کے جوہری افژودگی کے پروگرام پر تشویش ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے صدر بش کی پالیسی جاری نہیں رکھیں گے اور ایران سے تعلقات کے سلسلے میں مختلف پالیسی اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس معاملے سے نئے طریقے سے نمٹنا ہوگا‘۔ باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ اپنے اصل مقصد کو مکمل طور پر واضح کرتے ہوئے باہمی احترام اور بات چیت کی خواہش پر زور دیں گے۔ باراک اوباما ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران سے بات چیت کے سلسلے میں پہلے سے کوئی شرائط عائد نہیں کی جانی چاہیئیں۔انٹرویو کے دوران انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے اس نئی حکمتِ عملی پر’تیزی سے عمل پیرا ہوگی‘۔ اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے مشرقِ وسطٰی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ میں اس وقت ایک ٹیم تشکیل دے رہا ہوں تاکہ بیس جنوری کو ہمارے کام کے پہلے دن ہمیں مشرقِ وسطٰی میں قیام امن کی کوششوں کے لیے بہترین افراد میسر ہوں جو کہ فوراً اس معاملے پر کام شروع کر سکیں‘۔ | اسی بارے میں کیا اوباما تبدیلی کا وعدہ پورا کر پائیں گے؟26 November, 2008 | آس پاس اوباما کو آزمانے سے گریز کا انتباہ13 December, 2008 | آس پاس اوباما: گوانتانامو کی بندش کا عزم18 December, 2008 | آس پاس غزہ: اوباما کی خاموشی پرافسوس06 January, 2009 | آس پاس اوباما کی صدارتی کھانے میں شرکت08 January, 2009 | آس پاس کیاایران کی امیدوں پر پانی پھرگیا؟10 November, 2008 | آس پاس اوباما سال کی بہترین شخصیت: ٹائم18 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||