ایران سےغیرمشروط بات، پاکستان کی جوابدہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نے صدر باراک اوباما کی حکومت ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے اور دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔ نئی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی وضاحت وہائٹ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر کی ہے جس سے نئی حکومت کے عالمی ایجنڈے کی جھلک ملتی ہے۔ اس پالیسی دستاویز کے مطابق پاکستان کی غیر فوجی امداد بڑھائی جائے گی لیکن ساتھ ہی حکومت پاکستان کو’ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کے لیے جوابدہ‘ بنایا جائے گا۔ لیکن یہ کیسےکیا جائے گا اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ باراک اوباما نے بحیثیت صدر اپنے پہلے ہی دن کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے جبکہ گوانتانامو بے کا متنازع قید خانہ بند کرنے کا حکم آج جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی میں کئی نمایاں تبدیلیاں ہیں لیکن اسرائیل کی بدستور حمایت کے معاملے میں تسلسل ہے۔
ایران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ باراک اوباما ’ایران سے براہ راست اور ’ٹف‘ سفارتکاری کے حق میں ہیں لیکن بات چیت کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوں گی۔‘ بش انتظامیہ کا موقف تھا کہ جب تک ایران اپنا جوہری پروگرام معطل نہیں کرتا، اس سے بات چیت مممکن نہیں ہے۔ صدر اوباما کی پالیسی اس کے بالکل بر عکس ہے اور اس کا اشارہ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی تقریر میں بھی دیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ کے مطابق نئی انتظامیہ ’ دوستوں اور دشمنوں سے بغیر شرط بات کرے گی‘۔ لیکن ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے جو پیش کش پہلے کی جاچکی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یعنی ایران اگر اپنا پروگرام ترک کردے تو اسے وسیع اقتصادی اور سفارتی مدد فراہم کی جائے گی بصورت دیگر اس کے خلاف پابندیاں اور سخت کر دی جائیں گی۔ ایران نے اب تک اس تجویز کو مسترد کیا ہے لیکن وہائٹ ہاؤس کے مطابق’ ہم ایران کے ساتھ ایک جامع سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں گے جو اس معاملے میں پیش رفت کا بہترین طریقہ ہے۔‘ جوہری اسلحے کے بارے میں بھی امریکہ نے اپنی پالیسی بدلی ہے اور اب وہ دنیا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کی کوشش کرے گا۔ ’یہ ایک طویل مدتی ہدف ہوگا۔ جب تک دنیا میں جوہری اسلحہ ہے، امریکہ بھی جوہری ہتھیاروں کی شکل میں اپنی حفاظت کا بندوبست رکھے گا۔ لیکن ان ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
نئی حکومت نئے جوہری ہتھیار نہیں بنائے گی اور اس راہ میں ماسکو کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ لیکن اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ اگرچے اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دو ملکی حل کے لیے کام کرے گا لیکن اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ ’ امریکہ خود کو کبھی اسرائیل سے دور نہیں کرے گا۔‘ اس پالیسی دستاویز میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے10 January, 2009 | آس پاس ایران پر نئی امریکی پالیسی کا وعدہ11 January, 2009 | آس پاس اوباما ’بیسٹ‘ پر سواری کریں گے 15 January, 2009 | آس پاس اوباما کی صدارتی کھانے میں شرکت08 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||