BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2009, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران سےغیرمشروط بات، پاکستان کی جوابدہی
صدر اوباما نے اقتدار سنبھالتے ہی کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے

امریکہ کے نے صدر باراک اوباما کی حکومت ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے اور دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔

نئی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی وضاحت وہائٹ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر کی ہے جس سے نئی حکومت کے عالمی ایجنڈے کی جھلک ملتی ہے۔

اس پالیسی دستاویز کے مطابق پاکستان کی غیر فوجی امداد بڑھائی جائے گی لیکن ساتھ ہی حکومت پاکستان کو’ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کے لیے جوابدہ‘ بنایا جائے گا۔ لیکن یہ کیسےکیا جائے گا اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

باراک اوباما نے بحیثیت صدر اپنے پہلے ہی دن کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے جبکہ گوانتانامو بے کا متنازع قید خانہ بند کرنے کا حکم آج جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی میں کئی نمایاں تبدیلیاں ہیں لیکن اسرائیل کی بدستور حمایت کے معاملے میں تسلسل ہے۔

ایران سے بات چیت کی پیش کش خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلی ہے

ایران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ باراک اوباما ’ایران سے براہ راست اور ’ٹف‘ سفارتکاری کے حق میں ہیں لیکن بات چیت کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوں گی۔‘ بش انتظامیہ کا موقف تھا کہ جب تک ایران اپنا جوہری پروگرام معطل نہیں کرتا، اس سے بات چیت مممکن نہیں ہے۔

صدر اوباما کی پالیسی اس کے بالکل بر عکس ہے اور اس کا اشارہ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی تقریر میں بھی دیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ کے مطابق نئی انتظامیہ ’ دوستوں اور دشمنوں سے بغیر شرط بات کرے گی‘۔

لیکن ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے جو پیش کش پہلے کی جاچکی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یعنی ایران اگر اپنا پروگرام ترک کردے تو اسے وسیع اقتصادی اور سفارتی مدد فراہم کی جائے گی بصورت دیگر اس کے خلاف پابندیاں اور سخت کر دی جائیں گی۔

ایران نے اب تک اس تجویز کو مسترد کیا ہے لیکن وہائٹ ہاؤس کے مطابق’ ہم ایران کے ساتھ ایک جامع سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں گے جو اس معاملے میں پیش رفت کا بہترین طریقہ ہے۔‘

جوہری اسلحے کے بارے میں بھی امریکہ نے اپنی پالیسی بدلی ہے اور اب وہ دنیا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کی کوشش کرے گا۔

’یہ ایک طویل مدتی ہدف ہوگا۔ جب تک دنیا میں جوہری اسلحہ ہے، امریکہ بھی جوہری ہتھیاروں کی شکل میں اپنی حفاظت کا بندوبست رکھے گا۔ لیکن ان ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پوری دستاویز میں غزہ کا کوئی ذکر نہیں ہے

نئی حکومت نئے جوہری ہتھیار نہیں بنائے گی اور اس راہ میں ماسکو کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

لیکن اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ اگرچے اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دو ملکی حل کے لیے کام کرے گا لیکن اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ ’ امریکہ خود کو کبھی اسرائیل سے دور نہیں کرے گا۔‘

اس پالیسی دستاویز میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اوباما اور توقعات
بارک اوباما سے امریکی عوام کیا توقع کرتی ہیں
 اوبامااوباما کے عزائم
گوانتانامو بے کی بندش اور تشدد کا خاتمہ
 اوبامہ ٹائم میگزین کے صفـحۂ اول پربہترین شخصیت
اوبامہ 2008 کی بہترین شخصیت: ٹائم میگزین
باراک اوبامااوباما کی خاموشی
غزہ: لڑائی پر خاموشی ،افسوس کا اظہار
دمتری میدویدفروس اور اوباما
روسی صدر کا بیان یا ایک تیر دو شکار؟
اوباماذمہ داری اوباما پر
غزہ میں فوجی کارروائی کون بند کرائے گا؟
اسی بارے میں
حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے
10 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد