اوباما: صدارت کا پہلا مکمل دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باراک اوباما بحیثیت امریکی صدر اپنے پہلے مکمل دن کا آغاز کیا ہے اور نامہ نگاروں کے مطابق دو جنگیں اور ملک کو درپیش شدید مالی بحران ان کی فوری توجہ کے طلب گار ہیں۔ صدر اوبامہ امریکی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجکر پینتیس منٹ پر اوول آفس پہنچے اور سب سے پہلے انہوں نے صدر بش کا چھوڑا ہوا ایک خط پڑھا۔ بعد میں وہ روایتی عبادت کے لیے واشنگٹن کے نیشنل کیتھڈرل چلے گئے۔ واپسی پر انہوں نے اپنی انتظامیہ کے لیے نئے اخلاقی قواعد و ضوابط اور وائٹ ہاؤس کے سٹاف کی تنخواہ منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ پہلے سیاہ فام امریکی صدر نے حلف لینے کے فوراً بعدگوانتانامو بے کا متنازع قیدخانہ بند کرنے کے اپنے وعدے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے فوجی ٹرائبیونل کی کارروائی ایک سو بیس دن کے لیے معطل کرنے کو کہا ہے۔ اس ضمن میں ایک درخواست عدالت میں پیش کی گئی ہے جسے منظور کر لیا ہے۔ اپنی حلف برداری کا جشن رات دیر گئے تک منانے کے باوجود باراک اوباما آج اپنے اقتصادی اور فوجی مشیروں سے مشورہ کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ ملکی معیشت کو دبارہ سے متحرک کرنے کے لیے آٹھ سو پچیس ارب ڈالر کے امدادی پیکیج پر بھی غور کریں گے۔ صدر اوبامہ نے اپنے عہدہ صدارت کے پہلے روز مشرقِ وسطیٰ کے چار رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی اور وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق ’انہیں عرب اسرائیل امن کے حصول کے لیے عملی طور پر حصہ لینے کے اپنے عزم سے آگاہ کیا۔‘ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے جن رہنماؤں سے فون پر بات کی وہ مصری صدر حسنی مبارک، اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ، اردن کے شاہ عبداللہ اور فلسطینی رہنماء محمود عباس ہیں۔ باراک اوباما نے منگل کو دوپہر بارہ بجے ملک کے چوالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔اس کے بعد سے جشن کا سلسلہ شروع ہوا جو رات دیر گئے تک جاری رہا۔ لیکن نامہ نگاروں کے مطابق اب سنگین مالی بحران اور افغانستان اور عراق کی جنگییں ان کے ایجنڈے میں سر فہرست ہوں گی۔ انہوں نے پہلے ہی بہت سے ایسے قوانین کے اطلاق پر روک لگا دی ہے جن پر صدر جارج بش نے عہدہ چھوڑنے سے ذرا پہلے دستخط کیے تھے۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ مالی پیکیج فروری کے وسط تک منظور کرنا چاہتے ہیں۔
عراق کی جنگ کے بارے میں باراک اوباما نے حلف برداری کے بعد ہی اعلان کیا کہ وہ اپنے فوجی کمانڈروں کو ایک نیا مشن دے رہے ہیں کہ وہ عراق کی جنگ ختم کریں۔ عراق کی جنگ پانچ سال سے جاری ہے اور اب بھی وہاں ایک لاکھ چالیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ صدر اوباما سولہ مہینوں کے اندر اپنی فوج واپس بلانا چاہتے ہیں اور عراقی حکومت بھی یہ کہہ چکی ہے کہ امریکی افواج اگر 2012 سے پہلے واپس جانا چاہے تو خوشی سے جاسکتی ہے۔ عراق اور امریکہ نے 2012 تک غیر ملکی افواج کے عراق میں رہنے کے بارے میں دسمبر میں ایک معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔ بدھ کو ہی ہیلری کلنٹن کی بحیثیت خارجہ سیکریٹری تقررر پر بھی بحث ہوگی۔ اس عہدے پر ان کے تقرر کی توثیق ریپبلکن پارٹی کے ایک رکن کی جانب سے اس اعتراض کے بعد موخر کر دی گئی تھی کہ ان کے شوہر اور سابق صدر بل کلنٹن کے فاؤنڈیشن کو بیرون ملک سے حاصل ہونے والے عطیات پر ایوان میں بحث کی جائے۔ صدر اوباما کی کابینہ کے چھ ارکان کے تقرر کی توثیق منگل کو ہی کر دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||