BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2009, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں باراک حسین اوباما۔۔۔۔۔

’’میرے عزیز ہم وطنو

میں آج یہاں ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی یاد لیے، لوگوں کی جانب سے مجھ پر کیے جانے والے اعتماد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔ میں ہماری قوم کے لیے صدر بش کی خدمات اور اقتدار کی منتقلی کے عمل کے دوران تعاون پر ان کا شکرگزار ہوں۔

اب تک چوالیس امریکی عہدۂ صدارت کا حلف اٹھا چکے ہیں لیکن امریکہ کا آج تک کا سفر صرف ان اعلٰی عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی صلاحیتوں اور ذہانت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوام اپنے آباؤاجداد کے آئیڈیلز سے وفادار رہے ہیں۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ آج ہم ایک بحران کا شکار ہیں۔ ہماری قوم تشدد اور نفرت کا پرچار کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔ ہماری معیشت بری طرح کمزور ہو چکی ہے، لوگوں کے گھر چھنے ہیں، نوکریاں گئی ہیں اور کاروبار تباہ ہوگئے ہیں جس کی وجہ جہاں کچھ افراد کی غیر ذمہ داری اور لالچ ہے وہیں مشکل فیصلے کرنے اور ایک نئے دور کے لیے قوم کو تیار کرنے میں ہماری کوتاہی بھی ہے۔

طبی سہولیات مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، سکول بہت سوں کے لیے کامیابی کی ضمانت نہیں رہے، اور توانائی کا بے جا استعمال ہر نئے دن کے ساتھ ہمارے دشمنوں کو تقویت دینے کی ساتھ کرہ ارض کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

لیکن ان خطرات کا تو باقاعدہ حساب لگایا جا سکتا ہے۔ جو امر کسی پیمانے پر پرکھنا ممکن نہیں، وہ اعتماد کا بحران ہے ۔ایک سر ابھارتا خطرہ کہ شاید امریکہ کا زوال ناگزیر ہو چکا ہے۔

آج میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہمیں درپیش مشکلات حقیقی ہیں اور بہت سی ہیں۔ ان سے کم وقت میں آسانی سے نہیں نمٹا جا سکتا لیکن امریکہ یہ جان لے کہ ان سے ضرور نمٹا جائےگا۔

آج کے دن ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم نے خوف کے بدلے امید اور تصادم اور نفرت کے بدلے اتحاد کو ترجیح دی ہے۔آج کے دن ہم حقیر شکایتوں اور جھوٹے وعدوں، الزام تراشیوں اور فرسودہ خیالات سے، جو طویل عرصے تک ہماری سیاست کو گہنائے رہے، دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔

ہم ایک جوان قوم ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بچگانہ چیزوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم نسل در نسل ہم تک منتقل ہونے والے ایک بہتر تاریخ کے اس گراں قدر تحفہ کو چننے اور اپنی قوم کی عظمت کو پھر سے اجاگر کرنے کے لیے اپنے پائیدار جذبے کا اعادہ کریں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ عظمت یوں ہی نہیں مل جاتی۔ اسے محنت سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ منزل کے حصول کے لیے ہم آسان راستے کی تلاش نہیں کریں گے اور نہ ہی کم تر پر راضی ہوں گے۔ یہ راستہ کمزور دل کے لیے نہیں ہے، ان کا راستہ نہیں جو محنت پر عیش کو فوقیت دیتے ہیں، یا محض عیش اور شہرت کی تلاش میں رہتے ہیں۔

 ہمیں ذمہ دارانہ انداز سے عراق کو اس کے عوام کے حوالے کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں مشکل سے حاصل کیا گیا امن قائم رکھیں گے۔ ہم اپنے پرانے دوستوں اور سابق دشمنوں سے مل کر جوہری طرے میں کمی کے لیے انتھک کوششیں کریں گے۔ ہم اپنے طرزِ زندگی کے لیے نہ تو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں گے اور نہ ہی اس کی دفاع سے چوکیں گے۔ اور وہ جو دہشتگردی اور معصوم لوگوں کو ذبح کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہمارا عزم بلند ہے اور اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ تم ہم سے آگے نہیں نکل سکتے اور ہم تمہیں شکست دے دیں گے۔

بلکہ یہ راستہ خطرات سے نبرد آزما ہونے والوں کا ہے، میدانِ عمل میں آنے والوں کا ہے، اہل عمل کا ہے۔ ان لوگوں کا ہے جن میں سے کچھ جشن مناتے ہیں مگر اکثر وہ مرد و خواتین ہیں جو اپنے کام میں جٹے ہوئے ہیں اور جو ہمیں مشکل راہوں سے خوشحالی اور آزادی کی جانب لائے۔

ہمارے لیے انہوں نے اپنا سامنا سمیٹا اور ایک نئی زندگی کی تلاش میں سمندروں کا سفر کیا۔ ہمارے لیے ہی وہ مغرب میں قیام پذیر ہوئے اور ہمارے لیے انہوں نے کوڑے کھائے اور سخت زمین میں ہل چلائے۔ وہ ہمارے لیے ہی کنکارڈ، گیٹسبرگ، نارمنڈی اور کھیسان جیسے محاذوں پر لڑے اور جان دی۔

بار بار ان مرد و زن نے کوشش کی، قربانیاں دیں اور کام کیا تاکہ ہم ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ ان کے نزدیک امریکہ ہمارے انفرادی ارادوں، جنم، زر یا قبیلے کے اختلافات سے کہیں بڑا تھا۔

یہی وہ سفر ہے جسے ہم آج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم آج بھی دنیا کی سو سے طاقتور اور خوشحال قوم ہیں۔ ہمارے کارکن آج بھی اتنا ہی کام کر رہے ہیں جتنا کہ بحران کے آغاز پر کر رہے تھے۔ ہمارے ذہنی اختراع میں کمی واقع نہیں ہوئی اور ہماری اشیاء اور خدمات کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ گزشتہ ہفتے گزشتہ ماہ یا گزشتہ برس تھی۔ لیکن اب تنگ نظر مفادات کے تحفظ اور مشکل فیصلوں کو ٹالنے کا وقت گزر چکا ہے۔ آج سے ہمیں اپنے آپ کو سمیٹنا ہے اور امریکہ کی تشکیلِ نو کا کام دوبارہ شروع کرنا ہے۔

ہم جس سو بھی نظر ڈالیں ہمیں کرنے کو بہت سا کام نظر آئے گا۔ ہماری اقتصادی حالت ہم سے فوری اور جراتمندانہ اقدامات کی متقاضی ہے۔ اور ہم میدانِ عمل میں آئیں گے۔ ہم نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے بلکہ ترقی کے لیے نئی بنیادیں ڈالیں گے۔ ہم اپنی تجارت میں اضافے کے لیے سڑکیں، پل اور بجلی گھر تعمیر کریں گے۔ ہم سائنس کا اصل مقام بحال کریں گے اور طبی سہولیات کا معیار بلند کرنے اور اس کی لاگت میں کمی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔

ہم اپنی فیکٹریاں چلانے اورگاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے سورج اور ہواؤں کو لگام ڈالیں گے اور اپنے سکولوں، کالجوں اور جامعات کو نئے دور کے تقاضوں کے ہم پلہ لائیں گے۔ ہم یہ سب کر سکتے ہیں اور یہ سب ہم کریں گے بھی۔

اب یہاں کچھ لوگ ہیں جو ہمارے بلند ارادوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے خیال میں ہمارا نظام بہت بڑے منصوبوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ان لوگوں کی یادداشت کمزور ہے۔ یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارے ملک نے کیا کچھ کیا ہے۔

ہمارے سامنے یہ سوال نہیں کہ بازار کی طاقت اچھائی کے لیے ہے یا برائی کے لیے۔ دولت کی تشکیل اور آزادی کے پھیلاؤ کے لیے اس طاقت کا کوئی ثانی نہیں لیکن اس بحران نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ کڑی نگرانی کے بغیر یہ بازار بے قابو ہو سکتا ہے اور یہ کہ صرف خوشحال افراد کو فائدہ پہنچانے والی قوم زیادہ عرصے تک خوشحال نہیں رہ سکتی۔ ہماری معیشت کی کامیابی کا دارومدار صرف ہمارے جی ڈی پی کے حجم پر نہیں بلکہ ہماری خوشحالی کی پہنچ اور ہر خواہشمند فرد کو موقع کی فراہمی پر ہے۔ ہم یہ موقع خیرات میں نہیں دیتے بلکہ اس لیے دیتے ہیں کہ یہ مفادِ عامہ کا بہترین راستہ ہے۔

اگر ہمارے سامنے اپنے دفاع اور آئیڈیلز میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنے کی بات ہو تو ہم اس بات کو ہی رد کرتے ہیں۔ ہمارے آباؤاجداد نے، جنہیں ان حالات کا سامنا تھا جن کے بارے میں آج تصور ہی کیا جا سکتا ہے، قانون کی حکمرانی اور حقوقِ انسانی کے تحفظ کے لیے ایک چارٹر تیار کیا۔ یہ آئیڈیلز آج بھی موجود ہیں اور ہم انہیں مصلحتاً ترک نہیں کریں گے۔

چنانچہ دنیا کے تمام لوگ اور حکومتیں، بڑے سے بڑے دارالحکومتوں سے لے کر میرے والد کی جائے پیدائش اس چھوٹے سے گاؤں تک میں رہنے والے یہ جان لیں کہ امریکہ ہر اس مرد، عورت، بچے اور قوم کا دوست ہے جو پرامن اور عظیم مستقبل چاہتا ہے اور یہ کہ ہم ایک بار پھر رہنمائی کے لیے تیار ہیں۔

ہم اپنے اصولوں سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک بار پھر ان خطرات سے نمٹ سکتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں زیادہ تعاون، زیادہ کوشش اور اقوام کے درمیان زیادہ سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔

ہم ذمہ دارانہ انداز سے عراق کو اس کے عوام کے حوالے کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں مشکل سے حاصل کیا گیا امن قائم رکھیں گے۔ ہم اپنے پرانے دوستوں اور سابق دشمنوں سے مل کر جوہری ہتھیاروں میں کمی کے لیے انتھک کوششیں کریں گے۔

 مسلم دنیا کے لیے میرا پیغام ہے کہ ہم ایک نئی راہ کی تلاش میں ہیں جس کی بنیاد باہمی احترام اور باہمی مفاد پر ہو۔ مغرب کو اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذمہ دار سمجھنے والے سمجھ لیں کہ آپ کے عوام آپ کو ان چیزوں پر پرکھیں گے جو کہ آپ نے تعمیر کیں نہ کہ جو آپ نے تباہ کیں۔

ہم اپنے طرزِ زندگی کے لیے نہ تو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں گے اور نہ ہی اس کی دفاع سے چوکیں گے۔ اور وہ جو دہشتگردی اور معصوم لوگوں کو ذبح کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہمارا عزم بلند ہے اور اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ تم ہم سے آگے نہیں نکل سکتے اور ہم تمہیں شکست دے دیں گے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمارا مختلف النوع ورثہ ہماری طاقت ہے کمزوری نہیں۔ ہم عیسائیوں، مسلمانوں، یہودیوں،ہندوؤں اور دہریوں کی قوم ہیں۔ ہم میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے،ہر زبان بولنے والے لوگ اور کرہ ارض کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

ہم نے خانہ جنگی اور امتیاز کا تلخ ذائقہ چکھا ہوا ہے اور چونکہ ہم اس سیاہ باب سے مزید مضبوط اور متحد ہو کر نکلے ہیں اس لیے ہم جانتے ہیں کہ پرانی دشمنیاں وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گی، قبیلوں کے لحاظ سے ہونے والی شناخت ختم ہو جائے گی اور دنیا مختصر ہو کر رہ جائے گی اور امریکہ کو امن کے اس نئے دور میں رہنما کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مسلم دنیا کے لیے میرا پیغام ہے کہ ہم ایک نئی راہ کی تلاش میں ہیں جس کی بنیاد باہمی احترام اور باہمی مفاد پر ہو۔ مغرب کو اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذمہ دار سمجھنے والے سمجھ لیں کہ آپ کے عوام آپ کو ان چیزوں پر پرکھیں گے جو کہ آپ نے تعمیر کیں نہ کہ جو آپ نے تباہ کیں۔

وہ لوگ جو رشوت ستانی اور دھوکے بازی سے اقتدار میں آئے ہیں جانتے ہیں کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں ہیں لیکن وہ جان لیں کہ ہم اس صورت میں ان کی جانب ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں اگر وہ اپنی مٹھی کھولنے پر آمادہ ہو جائیں۔

غریب ملکوں کے عوام سے ہم کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ آپ کی کاشت میں ترقی ہو، پینے کا صاف پانی میسر ہو اور جسم اور دماغ دونوں کی نشو نما کے لیے مواقع حاصل ہوں۔ اور ہم اپنے جیسے وسرے دولت مند ممالک سے کہتے ہیں کہ ہم دنیا کے غریب عوام کے مصائب کو مزید نظر انداز نہیں کرسکتے، اور نہ ہی ہم نتائج کی فکر کیے بغیر دنیا کے وسائل استعمال کرسکتے ہیں۔ دنیا بدل گئی ہے اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔

ہم ان بہادر امریکیوں کے شکر گزار ہیں جو دور افتادہ ریگستانوں اور پہاڑوں پر اس وقت بھی پہرہ دے رہے ہیں۔ ہم ان کے احسان مند ہیں نہ صرف اس لیے کہ وہ ہماری آزادی کے محافظ ہیں بلکہ خدمت کے جذمے کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر زندگی کا مقصد تلاش کرتے ہیں اور آج ہم سب کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ حکومت جو کچھ کر سکتی ہے وہ تو کرے گی، لیکن یہ ملک ترقی کے لیے امریکی عوام کے عزم پر انحصار کرتا ہے۔ ہمیں اس مشکل کی گھڑی سے نکلنے کے لیے رحم دلی اور قربانی کے جذبے کی ضرورت ہے جو امریکی عوام دکھا رہے ہیں۔

ہمارے چیلنجز نئے ہوسکتےہیں، ان سے نمٹنے کے طریقے نئے ہوسکتے ہیں لیکن وہ اقدار جن پر ہماری کامیابی کا انحصار ہے، سخت محنت اور ایمانداری، شجاعت اور انصاف، رواداری اور تجسس، وفاداری اور محب الوطنی، تمام کی تمام پرانی ہیں۔ لیکن یہی صحیح ہیں۔

ہماری تاریخ میں انہیں اقدار کی بنیاد پر ترقی ہوئی ہے اور ہمیں انہیں کی جانب لوٹنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امریکی اپنی ذمہ داری سمجھے اور اسے اس بات کا احساس ہو کہ ہمارے کچھ فرائض بھی ہیں، اپنے تئیں، اپنی قوم کے تئیں اور دنیا کے تئیں اور ہم ان ذمہ داریوں کو بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ خوشی سے سنبھالتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ روح کی تسکین اور ہمارے کردار کی شناخت اس سے بہتر طریقے سے نہیں ہوسکتی کہ ہم مشکل حالات سے نمٹنے میں دل و جان سے جٹ جائیں۔

یہ شہریت کی قیمت اور وعدہ ہے۔ یہ ہماری آزادی اور نسل کا مطلب ہے کہ آج ہر نسل اور مذہب کے لوگ اس شاندار سڑک پر جشن منا رہے ہیں اور ایک ایسا شخص جس کے باپ کو ممکنہ طور پر ساٹھ برس قبل ایک مقامی ریستوران میں داخل نہ ہونے دیا جاتا، آج آپ کے سامنے کھڑا ایک مقدس ترین حلف اٹھا رہا ہے۔

اس لیے آؤ مل کر اس دن کو یاد رکھیں۔ یاد رکھیں کہ ہم کون ہیں اور ہم کہاں آ پہنچے ہیں۔ امریکہ کی تشکیل کے سال میں، سرد ترین مہینوں میں محبِ وطن افراد کا ایک چھوٹا گروہ برفانی دریا کے ساحل ہر لکڑیوں کے بجھتے ہوئے الاؤ کر گرد بیٹھا تھا۔ دارالحکومت خالی ہو چکا تھا۔ دشمن آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ برف خون سے سرخ تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے انقلاب کا نتیجہ مشکوک تھا، قوم کے باپ نے لوگوں کو یہ پیغام دیا:

’ آنے والے زمانوں کی قومیں سن لیں کہ اس سردی میں جہاں صرف امید اور نیکی پنپ سکتی ہے کہ اس شہر اور ملک نے ایک مشترکہ خطرے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا‘۔

امریکہ والوں، اس مشکلات کے موسم میں اور مشترکہ خطرات کا سامنا کرتے ہوئے یہ لازوال الفاظ امید اور نیکی کے ساتھ یاد رکھیں۔ آو مل کر ان برفانی بحرانوں کا مقابلہ کریں اور آنے والے طوفانوں سے نمٹیں۔ تاکہ ہمارے بچوں کے بچے یہ کہیں کہ جب ہم پر مشکل وقت پڑا تو ہم نے نہ اس سفر کو ختم کرنے سے انکار کیا،نہ پیٹھ دکھائی اور افق پر نظریں گاڑے ہوئے ہم آگے بڑھتے رہے تاکہ آزادی کا عظیم تحفہ آنے والی نسلوں تک پہنچایا جا سکے‘۔

باراک اوبامامسائل اور ترجیحات
اوباما فوری طور پر کیا کرنا چاہیں گے
باراک اوباما کا حلف، آپ کے خیال میں
باراک اوباما کا حلف، آپ کی توقعات
اوبامااوباما کا حلف
امریکی صدر کی حلف برداری:خصوصی ضمیمہ
کوگیولو میں جشن
گاؤں والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد