’گوانتانامو کےقیدی نہیں رکھ سکتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا نے خلیج گوانتانامو حراستی مرکز کے قیدیوں کو قبول کرنے سے متعلق امریکی حکومت کی درخواست رد کر دی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے کہا تھا کہ وہ اس درخواست پر غور کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کی نائب وزیر اعظم جولیا جِلارڈ نے کہا ہے کہ امریکی درخواست رد کرنے کا فیصلہ قومی سلامتی اور امیگریشن کے معاملات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے ہر کیس کو علیحدہ علیحدہ جانچا تو وہ ہمارے قومی سلامتی اور امیگریشن کے اصولوں پر پورے نہیں اترے اس لیے انہیں مسترد کر دیا گیا‘۔ یہ ایک سال میں دوسرا موقع ہے کہ آسٹریلیا نے ایسی کوئی درخواست قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2008 کے ابتدائی مہینوں میں بھی ایسی ہی امریکی درخواست رد کر دی گئی تھی۔ نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ نے بیس جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد گوانتانامو حراستی مرکز بند کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں اس وقت مقید افراد میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں اگر ان کے آبائی ممالک کے حوالے کیا گیا تو انہیں تشدد اور مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس وقت گوانتانامو مرکز میں دو سو پچپن افراد زیرِ حراست ہیں جن میں وہ ساٹھ افراد بھی شامل ہیں جنہیں امریکی حکام مزید خطرہ نہیں سمجھتے اور انہیں رہائی کے لیے موزوں قرار دیا جا چکا ہے۔
ایک آسٹریلوی اخبار کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ گوانتانامو حراستی مرکز کے قیدیوں کو قبول کرنے کے حوالے سے قریباً سو ممالک سے بات کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ اور پرتگال دیگر یورپی ملکوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کریں۔ اگرچہ برطانیہ نے کسی بھی قیدی کو براہِ راست پناہ کی پیش کش نہیں کی، تاہم اس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کوگوانتانامو کا حراستی مرکز بند کرنے میں مدد کی ضرورت ہو گی۔دوسری طرف برطانوی دفترِِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں کسی طرح کی سودے بازی نہیں کر رہا۔ یا رہے کہ آسٹریلیا میں سنہ2007 میں برسرِ اقتدار آنے والے وزیراعظم کیون رڈ خلیج گوانتانامو کے حالات اور وہاں قیدیوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر تنقید کرتے رہے ہیں اور جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی تو انہوں نے اس حراستی مرکز میں قید دو آسٹریلوی باشندوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان دو آسٹریلوی باشندوں میں سے ممدوح حبیب نامی شخص کو سنہ 2005 میں رہا کر دیا گیا تھا کہ جبکہ آسٹریلیا کے ڈیوڈ ہکس ہی گوانتانامو مرکز وہ پہلے قیدی ہیں جنہیں سزا سنائی گئی تھی۔ | اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں کو پناہ دینے پر غور02 January, 2009 | آس پاس گوانتانامو کے خاتمے پر کام شروع19 December, 2008 | آس پاس اوباما: گوانتانامو کی بندش کا عزم18 December, 2008 | آس پاس گوانتانامو سے فوری رہائی کا حکم21 November, 2008 | آس پاس ’اخلاقی وقار بحال کروں گا‘17 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||