 | | | عمر خادر کی عمر سولہ سال تھی جب اسے گرفتار کیا گیا |
گوانتنامو بے کے ایک قیدی کی ویڈیو جاری کی گئی ہے جو کیمپ جیل میں قید کسی بھی قیدی کی پہلی ویڈیو ہے۔ کنیڈا کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین کی اس ویڈیو میں سولہ سالہ کنیڈیائی شہری عمر خادر سے کنیڈیائی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس نوجوان کو امریکی فوجیوں نے افغانستان سے گرفتار کیا تھا اور اس پر الزام ہے کہ اس نے دو ہزار دو میں ایک دستی بم پھینکا تھا جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔ ویڈیو میں اس کا حال برا دکھائی دیتا ہے اور وہ طبی سہولتیں نہ دیے جانے کی شکایت کر رہا ہے۔ اس ویڈیو کی فٹیج امریکی سپریم کورٹ کی اُس رولنگ کے بعد مسٹر خادر کے وکیل نے عام کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم کو اپنے مکمل دفاع کے لیے وہ تمام شہادتیں فراہم کی جائیں جو اس پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جانی ہوں۔ اس رولنگ کے بعد کنیڈیائی حکام نے یہ ویڈیو عمر خادر کے وکیل کو فراہم کی۔ خادر کسی مغربی ملک کی شہریت رکھنے والے والد فرد ہیں جو اب تک گوانتناموبے میں قید ہیں۔ دس منٹ کی اس ویڈیو میں عمر خادر چیخ رہے ہیں اور کبھی وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپاتے اور کبھی اپنے بال نبچنے لگتے ہیں۔ انہیں کئی بار ’ہیلپ می‘ کی پکار کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔ |