BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو سے رہائی، مشکلات جاری

عادل
تفتیش میں نرمی اس وقت آئی جب امریکی تفتیش کاروں کو یقین دلا دیا کہ دہشت گردی اور طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں: عادل
نومنتخب صدر اوباما حلف لینے کے بعد گوانتانامو بے کو بند کرنے کے عمل کو تیز کریں گے اور اس میں قید ساٹھ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

لیکن ان قیدیوں کے مسائل ان کی رہائی پر ختم نہیں ہوتے جیسے کہ چینی قیدی عادل حاکم جان کے ساتھ ہوا۔ عادل حاکم جان کے ساتھ ناروا سلوک کیاگیا اور غلط قید کیا گیا لیکن وہ ابھی بھی ہنس مکھ ہیں۔

چونتیس سالہ عادل پر چینی حکومت نے مسرقی ترکمنستان آزادی تحریک کا حصہ ہونے کا الزام لگایا اور وہ انیس سو ننانوے میں اپناگھر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو تنگ کیا گیا اور چینی حکام نے ان پر تشدد کیا اور قید کیا گیا۔

وہ ترکی اس امید پر روانہ ہوئے کہ وہاں ان کو کام مل جائے گا۔

دو ہزار کے آخرمیں وہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے پہنچے ۔وہاں ان کے بقول ان کو امریکی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور وہ قندھار کی قید لے جایا گیا۔

’ہمیں قندھار قید خانے میں چھ ماہ رکھا گیا۔ دو وقت کا کھانا ملتا تھا ایک دوپہر کو اور ایک آدھی رات کو۔ رات کو سونا مشکل تھا کیونکہ ہم ایک کمرے میں بائیس افراد تھے اور اکثر افراد کو رات کے وقت تفتیش کے لیے لے جایا جاتا تھا۔‘

انہوں نے کہا ’جب وہ ایک فرد کو تفتیش کےلیے لینے آتے تھے تو وہ سب کو دیوار کے ساتھ کھڑے ہونے اور سر پر دونوں ہاتھ رکھنے کا کہتے تھے۔ ان چھ ماہ میں ہم بہت تھک گئے تھے۔‘

 ہمیں قندھار قید خانے میں چھ ماہ رکھا گیا۔ دو وقت کا کھانا ملتا تھا ایک دوپہر کو اور ایک آدھی رات کو۔ رات کو سونا مشکل تھا کیونکہ ہم ایک کمرے میں بائیس افراد تھے اور اکثر افراد کو رات کے وقت تفتیش کے لیے لے جایا جاتا تھا۔

عادل کا کہنا تھا کہ ان کی تفتیش میں نرمی اس وقت آئی جب انہوں نے امریکی تفتیش کاروں کو یقین دلا دیا کہ ان کا دہشتگردی اور طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو امید تھی کہ ان کو رہا کردیا جائے گا لیکن ایک دم ان کو گوانتاناموبے منتقل کردیا گیا۔

گوانتاناموبے میں ان کی تفتیش جاری رہی جب تک کہ ٹریبونل نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ’غیر قانونی جنگجو‘ نہیں ہیں۔ ان کو کیمپ اگوآنا منتقل کردیا گیا جہاں ان پر زیادہ سختی نہیں کی جاتی تھی۔

عادل نے بتایا کہ ان کا گوانتاناموبے میں بدترین وقت وہ تھا جب امریکینیوں نے چینی تفتیش کاروں کو تفتیش کرنے کی اجازت دی۔

’امریکنیوں سے زیادہ چینی تفتیش کار ظالم تھے۔ چینی حکام نے ہمیں کہا کہ یہ مت سمجھو کہ تم امریکہ کی قید میں ہو تو تم کو کچھ نہیں کہا جائےگا۔ ہم تم لوگوں کو چین واپس لے جانے آئے ہیں۔ تم یہاں ہم سے بات نہ کرو لیکن جب چین پہنچو گے تو تم بولو گے۔‘

عادل اور بائیس چینی قیدیوں کو امریکہ چین کے حوالے کرنے میں خوش تھا اور چین ان کو لینے کے لیے تیار تھا۔ لیکن یہ چینی قیدی واپس چین نہیں جانا چاہتے تھے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ ان کو سزا دی جائے گی۔

چینی امور کے ماہر ڈاکٹر مائیکل ڈلن کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا خوف درست ہے۔ ’چینی حکام ان کو واپس لے کر جائیں گے اور ان پر مقدمے چلایا جائے گا اور سب کو نہیں تو چند افراد کو سزائے موت دی جائے گی۔‘

اس لیے عادل کےلیے اس ملک کی تلاش شروع ہوئی جو ان کو اپنانے کے لیے تیار ہو۔ آخر میں یورپ کا غریب ترین اور اکثریتی مسلمان ملک البانیا نے عادل اور چار مزید چینی قیدیوں کو اپنانے کا حامی بھری۔

’مجھے جب البانیا کا معلوم ہوا تو میں پریشان ہوگیا کہ یہ چین کی کوئی ترکیب ہو سکتی ہے اور ہمیں چین بھیج دیا جائے گا۔ ہمارا جہاز آدھی رات کو ائرپورٹ پر اترا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو کچھ نظر نہیں آیا کیونکہ ہر طرف اندھیرا تھا۔ پھر دو تین گاڑیاں آئیں اور جہاز کا پچھلا حصہ کھلا۔ مجھے بہت ڈر لگا۔ گاڑی سے چند افراد اترے جن کے بال سنہری تھے اور یورپی لگ رہے تھے۔ ہمیں تھوڑا حوصلہ ہوا۔‘

عادل اور اس کے ساتھ چار افراد کو امیگریشن سینٹر میں رکھا گیا جہاں ان کو بتایا گیا کہ ان کو سفری دستاویزات، گھر، زبان سکھائی جائے گی اور نوکری ڈھبنڈنے میں مدد بھی کی جائے گی۔

لیکن زبان سکھانے کی کلاس صرف تین سبق کے بعد بند ہو گئے اور گھر اور سفری دستاویزات بننے میں مہینوں گزر گئے۔

اس سے مزید پریشان کن بات یہ تھی کہ عادل البانیا میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں تصور کرتے تھے۔

سٹاک ہوم میں عادل کی بہن کوثر جن کے ساتھ ان کی پچھلے دس سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی

ان کے بقول چینی حکام نے کئی بار البانیا حکومت سے ان قیدیوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کو یہ خوف بھی تھا کہ ہو سکتا چینی حکام کسی کو پیسے دے کر ان کو ختم ہی کردیں۔

سنہ دو ہزار سات میں عادل کے وکیل نے سویڈن کو قائل کر لیا کہ عادل کو چار روز کا ویزا دیا جائے تاکہ وہ انسانی حقوق پر لیکچر دے سکیں۔

سٹاک ہوم میں ان کی بہن کوثر انتظار کر رہی تھی جن کے ساتھ ان کی پچھلے دس سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

عادل نے سیاسی پناہ کی درخواست دی جس کو مسترد کردیا گیا اور اب وہ اپیل کر رہے ہیں۔

عادل کے وکیل کا کہنا ہے کہ عادل کو سیاسی پناہ ملنے کی امید ہے۔ ’عادل کے لیے البانیا کو پہلا ملک نہیں سمجھا جائے کیونکہ اس ملک کے لیے ان پر زور دیا گیا تھا۔ چونکہ ان کی بہن سویڈن میں ہیں اور چین سے باہر اس ملک میں ان کی یہ واحد رشتہ دار ہیں اس لیے امید ہے کہ عادل کو سیاسی پناہ مل جائے گی۔‘

عادل کی چین میں بیوی اور تین بچے ہیں۔ ان میں سب سے چھوٹے بچے کو انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اگر سویڈن میں ان کو رہنے کی اجازت مل بھی جاتی ہے تو وہ اپنے خاندان سے نہیں مل پائیں گے کیونکہ چینی حکام ان کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

گوانتاناموآسٹریلیا کا انکار
’گوانتانامو کے قیدی نہیں رکھ سکتے‘
 اوبامااوباما کے عزائم
گوانتانامو بے کی بندش اور تشدد کا خاتمہ
فائل فوٹوامریکہ کا درد سر
آخر امریکہ گوانتانامو میں کیوں پھنس گیا؟
مستقبل داؤ پر
گوانتانامو،امریکی سپریم کورٹ فیصلہ کرےگی
گوانتانامو قیدی گوانتانامو کتابچہ
دو ہزار تین کا کتابچہ انٹرنیٹ پر شائع
گوانتاناموشگوفےاور ہیری پوٹر
قیدیوں کیلیے اردو کتابیں، گوانتانامو ڈائری
پہلا مقدمہ، پہلی سزا
گوانتانامو:مسلمان آسٹریلیوی کو سزائے قید
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد