حلیف انداز تبدیل کریں: کرزئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے عالمی حلیفوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں لڑی جانے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے انداز تبدیل کریں۔ افغان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے ایک بار پھر نیٹو افواج پر زور دیا کہ وہ عام لوگوں کی ہلاکتیں کم کرنے کے لیے مزید کوشش کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان میں اربوں ڈالر کی امداد استعمال کی جا رہی ہے اس کی حکمتِ عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے حلیفوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ افغانستان میں منشیات کی تجارت روکنے کے لیے ضروری اور مناسب اقدام نہیں کر رہے۔ اتوار کو نیٹو کے سربراہ نے افغان حکومت میں کرپشن کی شکایت کی تھی۔ حامد کرزئی نے جنہیں اس سال اگلے انتخابات کا سامنا ہے، پارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ جبتک افغان عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی، شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں فتح نہیں ہو سکتی۔ حالیہ برسوں میں صدر کرزئی نے اکثر مغرب سے عام افغانوں کی ہلاکتوں کی شکایت کی ہے۔ عام لوگوں کی ہلاکتوں سے افغانستان میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ ’ہم نے کبھی یہ شکایت نہیں کی کہ ہماری پولیس کے لوگ شہید ہوئے ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ہم نے کبھی اپنے سینکڑوں فوجیوں کی شہادت پر کبھی شکایت نہیں کی۔ ہم یہ سب کچھ برادشت کر سکتے ہیں لیکن عام لوگوں کی ہلاکتیں برداشت نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ افغانستان فوجی کارروائیوں میں تبدیلی کا خواہشمند ہے کیونکہ ’ہم اس دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مؤثر دیکھنا چاہتے ہیں۔‘ صرف دو دن قبل نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے الزام لگایا تھا کہ افغانستان کی ’بد عنوان اور نالائق حکومت‘ افغانستان کے طویل عدم استحکام کی اتنی ہی ذمہ دار ہے جتنے کہ طالبان۔ نیٹ نامہ نگار کہتے ہیں کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے ہاتھوں عام لوگوں کی ہلاکتوں سے کابل اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے پینسٹھ ہزار فوجی ہیں جن میں سے اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔ نیٹو کی سربراہی میں ایساف کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس افغانست میں دو سو عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں تقریباً دو ہزار ہیں۔ |
اسی بارے میں جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو14 June, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم14 November, 2008 | آس پاس جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||