طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو افواج کے خلاف مسلح جد وجہد کر رہے طالبان کے ایک ترجمان نے ریڈیو انٹرویو میں بیرونی ممالک کے فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان چھوڑ کر چلے جائیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک خفیہ مقام سے بی بی سی کے ساتھ ٹیلی فون پر انٹرویو کے دوران نو منتخب صدر باراک اوبامہ کا مذاق بھی اڑیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اوبامہ کے مزید فوج بھیجنے کے منصوبے سے افغانستان میں جاری مزاحمت کی شکست نہیں ہو سکتی۔ انٹرویو کے دوران مجاہد نے تقریبا ایک گھنٹے تک سامعین کے جواب دیئے۔ انہوں نے کہا اس وقت افغانستان کے نصف حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے اور ان علاقوں کو اب وہ گزشتہ برسوں کے مقابلے کہیں بہتر حالات میں چلا رہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغان صدر حامد کرزائی بات چیت کے لیے برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ ایسے وقت جب یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ شاید برطانیہ جنوبی افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے کرزائی نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے ملاقات کی ہے۔ گزشتہ روز جنوبی افغانستان میں ہوئے ایک دھماکے میں دو برطانوی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ افغانستان میں برطانیہ کے آٹھ ہزار ایک سو فوجی تعینات ہیں۔ ملاقات کے بعد حامد کرزئی نےکہا کہ انہوں نے برطانیہ سے مزید فوج بھیجنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ انہوں نے یہ بات بھی تسلیم کی حالات بہتر کرنے کے لیے خود ان کی حکومت کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں انیس سو ستانوے اور دوہزار ایک کے درمیان طالبان اقتدار پر قابض رہے تھے اور اس دور میں وہاں سخت شرعی قوانین کا نفاذ تھا۔ اس وقت لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد تھی اور عام طور پر لوگوں کو موت کی سزائیں ان کا سر قلم کر کے دی جاتی تھیں۔ لیکن ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب طالبان سر قلم نہیں کرتے ہیں اور جن علاقوں پر وہ قابض ہیں وہاں لڑکیوں کی تعلیم کا بھی انہوں نے انتظام کیا ہے۔ ترجمان نے اس بات سے انکار کیا کہ قندھار میں سکول کی طالبات پر تیزاب پھینکنے میں طالبان کا ہاتھ تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر امریکی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ گیارہ ستمبر کو امریکہ کے ٹوئن ٹاورز پر حملوں میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ کو لانے والا امریکہ ہے نہ کہ طالبان۔ ترجمان نے کہا کہ انہیں اس بارے کوئی علم نہیں کہ اسامہ بن لادن کہاں ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ طالبان کے رہنما ملاّ عمر ایک محفوظ خفیہ مقام پر روپوش ہیں۔ | اسی بارے میں ’طالبان سے مقابلہ جنگ عظیم جتنا اہم‘11 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں طالبان کو نیٹو کی وارننگ 24 July, 2008 | آس پاس جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو14 June, 2008 | آس پاس قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار14 June, 2008 | آس پاس طالبان کمانڈر مُلا نقیب اللہ گرفتار؟01 April, 2008 | آس پاس دس فیصدافغانستان پر طالبان قابض28 February, 2008 | آس پاس ہلمند میں ’پچیس طالبان ہلاک‘28 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||