پاکستان میں طالبان کو نیٹو کی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اکٹھا ہونے والے طالبان کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے جاپ دی ہوپ شیفر نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے حل ہونا چاہیئے۔ حالیہ مہینوں میں نیٹو حکام نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے افغانستان کے اندر حملے ہو رہے ہیں۔ ڈی ہوپ شیفر نے کہا کہ پاکستان میں جمع ہونے والے جنگجو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے افغانستان کے سرکاری دورے کے موقع پر کہا کہ پاکستان پر انگلی اٹھانا یا الزام لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ’یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کا حل باہمی کوششوں سے نکالنا ہو گا۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں واضح کیا کہ وہ کس قسم کی بین الاقوامی کوششوں کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف نیٹو کی سربراہی میں افغانستان میں لڑنے والی افواج نے کہا ہے کہ نیٹو اور افغان فوجی ان علاقوں کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر کچھ روز پہلے مزاحمت کاروں نے قبضہ کر لیا تھا۔ نیٹو فوج نے غزنی صوبے کے اجرستان علاقے میں مزاحمت کاروں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ صوبائی حکام نے کہا ہے کہ لڑائی میں 15 مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان: امریکی توجہ کا نیا مرکز18 July, 2008 | پاکستان ’نیٹو، امریکی حملے کا خطرہ نہیں‘19 July, 2008 | پاکستان ’انگور اڈہ گولہ باری طالبان نے کی‘12 July, 2008 | پاکستان فوجی کارروائی سے تبدیلی نہیں 03 July, 2008 | پاکستان نئی فوجی کارروائی یا صرف ’پی آر‘ ؟02 July, 2008 | پاکستان ننگرہار پر حملہ ہم نے کیا، طالبان14 June, 2008 | پاکستان امریکی حملہ جائز تھا: پینٹاگون12 June, 2008 | پاکستان امریکہ: حملے کی ویڈیو جاری کر دی12 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||