پاکستان، افغانستان کے لیے ایلچی مقرر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے پاکستان اور افغانستان کے لیے رچرڈ ہولبروک اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے جارج مِچل کو نمائندہ مقرر کیا ہے۔ دونوں نمائندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی منجھے ہوئے اور تجربہ کار ہیں۔ ان تقرریوں کا باقاعدہ اعلان جمعرات کی شام واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ میں کیا گیا جہاں صدر باراک اوباما، امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن، نائب صدر جوزف بائڈن اور وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے نئے ایلچیوں کا اعلان وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کیا۔ رچرڈ ہولبُروک جنہیں پاکستان اور افغانستان کے لیے نمائندہ مقرر کیا گیا ہے ڈیٹن معاہدے کے لیے شہرت رکھتے ہیں جس کے تحت سنہ نوے کی دہائی میں بوسنیا میں جنگ ختم ہوئی تھی۔ عہدہ قبول کرتے ہوئے رچرڈ ہولبروک کا کہنا تھا: ’آپ نے مجھے پاکستان اور افغانستان دونوں کا ایلچی بنادیا ہے۔ یہ دونوں تاریخی اعتبار سے ایک دوسرے سے ممتاز اور مختلف ملک ہیں لیکن جغرافیے، نسلی یگانگت، اور آجکل کے ڈرامائی واقعات نےایک کو دوسرے سے منسلک کردیا ہے۔‘ جورج مچل جو مشرقِ وسطٰی کے لیے ایلچی مقرر ہوئے ہیں سابق امریکی سینیٹر رہ چکے ہیں اور وہ شمالی آئرلینڈ کے لیے بھی ایلچی کے طور پر کام کر چکے ہیں اور وہاں مصالحت میں ان کا کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
جارج مچل نے اپنی تقرری کے اعلان کے بعد کہا: ’اپنے تجربے کی بنا پر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ کوئی ایسا تنازعہ نہیں ہوتا جو حل نہ کیا جاسکے۔ تنازعے انسان پیدا کرتے ہیں اور انہیں پالتے پوستے ہیں۔ اور یہی انسان ان تنازعات کو ختم بھی کرسکتے ہیں۔‘ ان تقرریوں کے موقع پر اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی صورتِ حال کو دنیا کی انتہائی خطرناک صورتِ حال سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور عوام سے مضبوط شراکت اور مؤثر رابطوں کی پالیسی استوار کرے گا۔ صدر اوباما نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال بہت پیچدہ رہی ہے۔’جو لوگ صلح چاہتے ہیں ان کے سامنے دستِ صلح بڑھانا چاہۓ۔ پائیدار فائر بندی کی خاطر غزہ کی سرحدیں کھولی جائیں تاکہ امداد اور تجارت کی آمد و رفت ہو۔ اور بین الاقوامی اور فلسطینی انتظامیہ کی نگرانی میں سرحدوں کی چوکسی ہونی چاہۓ‘۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو چاہۓ کہ اسرائیل میں راکٹ پھینکنا بند کرے اور غزہ میں اسلحہ کی سمگلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہۓ۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوج مکمل طور پر واپس بلانی چاہیے اور ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد غزہ میں جانے کی اجازت دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ داغنے بند کرنے چاہیے اور غزہ میں اسلحے کی سمگلک کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔صدر اوباما نے کہ حماس کو اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے اور تشدد کی پالیسی ختم کرنی چاہیے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے پاک افغان صورتِ حال اور مشرقِ وسطٰ کو مریکی خارجہ پالیسی کے لۓ سب سے ضروری امور بتایا۔ |
اسی بارے میں حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے10 January, 2009 | آس پاس ایران پر نئی امریکی پالیسی کا وعدہ11 January, 2009 | آس پاس اوباما ’بیسٹ‘ پر سواری کریں گے 15 January, 2009 | آس پاس اوباما کی صدارتی کھانے میں شرکت08 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||