افغانستان، کیا حالات بدلیں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجودہ امریکی پالیسی کیا ہے اور یہ کس حد تک کامیاب ہوئی ہے، اور افغانستان میں سات سال کی کاوشوں کے باوجود امریکہ طالبان کو اب تک کیوں شکست دینے میں ناکام رہا ہے؟ افغان سیاسی اور فوجی تجزیہ نگاروں میں اس بارے میں کوئی اتفاق نہیں۔ مثال کے طور پر قبائلی ملیشیا تشکیل دینے کے منصو بے کا ذکر کر تے ہو ئے وہ کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں بھی عراق جیسی پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے لیکن یہاں زمینی حقائق بالکل الگ ہیں۔ سابق افغان وزیر دفاع، جہادی کمانڈر اور افغان صدر حامد کرزئی کے موجودہ مشیر برائے اقوام و قبائل وحید اللہ صباون کہتے ہیں کہ افغان ملیشیا تشکیل دینے کے پیچھے امریکہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ دور افتادہ علاقوں میں قبائل کو طالبان سے الگ کر کے طالبان کے خلاف جاری جنگ کو مزید تیز کریں۔ امریکہ نے عراق میں سنی ملیشیائیں تشکیل دی تھیں جوالقاعدہ اور عراقی مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی میں مددگار ثابت ہوئیں۔ یہ حکمت عملی جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے وضع کی تھی جو اب سینٹرل کمان کے سربراہ ہیں اور افغانستان کی جنگ بھی انہیں کی سربراہی میں لڑی جارہی ہے۔ افغانستان میں امریکی ایلچی ولیم وڈ کے مطابق یہ منصوبہ آزمائش کے طور پر پہلے جنوبی افغانستان میں شروع کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادیاں ان علاقوں کا دفاع کرسکیں جنہیں وہ اپنا روایتی گھر مانتی ہیں۔
لیکن یہ تو مستقبل میں ہوگا، ماضی میں جو ہوا اس کا کیا؟ سیاسی تجزیہ نگار وحید مژدہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے شروع سے ہی انتقامی کارروائی کا تاثر دیا ہے۔ نیٹو اور امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کے فضائی ببماری میں سینکڑوں معصوم لوگوں کی ہلاکت ، جنوبی اور دیگر سرحدی صوبوں میں عام لوگوں کے گھروں میں اجازت کے بغیر غیر ملکی افواج کی تلاشی، اور وحید مژدہ کے بقول ثبوت کے بغیر عام بے قصور لوگوں کی گرفتاریاں وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ستر ہزار غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود امریکہ کو کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ وحید مژدہ کا خیال ہے کہ افغانستان میں ہمیشہ سے دور افتادہ علاقوں اور دیہات کو نظر انداز کیا گیا ہے اس لیے ہمیشہ سے اس ملک میں دیہاتوں سے ہی حکومتوں کے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر وحید مژدہ کہتے ہیں کہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد بھی دیہات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کے خلاف مزاحمت وہیں سے ہی شروع ہو رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے اس نظریے کے علاوہ فوجی مبصرین کچھ اور عوامل کو بھی اہم مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان اور کثیر الملکی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی حکمت عملی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ افغان نیشنل آرمی کی محدود تعداد، افغان سکیورٹی فورسز کے پاس جدید فوجی ساز و سامان کی کمی اور افغان آرمی کے تجربہ کار اور سابق فوجی افسروں کی کثیر تعداد میں برطرفی سے بھی امریکی مہم متاثر ہورہی ہے۔
لیکن کیا امریکی تناظر سے حالات میں بہتری کا امکان ہے؟ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ سال 2009 طالبان اور افغان حکومت کے دوسرے مسلح مخالفین کے لیے صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ ان کے بقول بدترین سال ثابت ہوگا۔ گزشتہ سال شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں تین سو سے زیادہ غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے۔لہذا 2008 افغانستان میں غیر ملکی افواج کے لیے سب سے خونی سال تصور کیا جاتا ہے. اس کے باوجود اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اس سال شدت پسندوں کے خلاف حملوں میں تیزی آئیگی۔ اتحادی افواج کے ایک ترجمان گریک جولین نے اس سال کے موسمِ گرما تک تیس ہزار کے قریب مزید فوجی افغانستان بھیجنے کی بات کرتے ہوے بی بی سی کو بتایا ’شدت پسند مزاحمت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا جائے گا اور جہاں تک جنوبی اور مشرقی صوبوں کی بات ہے، ہم اس سال سب سے زیادہ توجہ انہی صوبوں پر مرکوز کریں گے اور ہماری کوشش یہ ہوگی کہ طالبان شدت پسندوں کو ان علاقوں سے باہر نکالیں۔‘ جہاں تک اتحادی افواج کے حملوں میں عام لوگوں کی ہلاکت کی تشویش کی بات ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس سال افغان اور کثیر الملکی افواج کو مزید فوجی ساز و سامان فراہم کیا جائے گی تاکہ ان کے بقول عام لوگوں کی ہلاکت میں کمی واقع ہو۔ افغان وزارت دفاع کا بھی کہنا ہے کہ اس سال افغان اور کثیر الملکی افواج کو مزید کامیابیاں حاصل ہونگی۔
اس سلسلے میں جنرل ظاہر عظیمی سال 2009 کو جنگ سے عاری سال نہیں سمجھتے تاہم اتحادی افواج اور افغان نیشنل آرمی کی تعداد میں اضافے کا اشارہ کرتے ہوئے توقع ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سال افغان آرمی کی کامیابی کی سال ہے۔ لیکن ان دعوؤں کی روشنی میں تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ابھی سے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کامیابی کس کو نصیب ہوگی۔ تاہم، طالبان رہنما ملا عمر نے امریکہ کی جانب سے افواج کے تعداد میں اضافے کے اعلان کے بعد خبردار کیا ہے کہ ان کے حملوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس وقت افغانستان میں جو ستر ہزار غیر ملکی فوجی ہیں، ان کا تعلق اکتالیس ممالک سے ہے اور ان میں سے تقریباً اکتیس ہزار امریکی فوجی شامل ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ مقامی ماہرین کے مطابق ہونا کیا چاہئے؟ جس طرح موجودہ مشکلات کے عوامل کے بار ے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، اسی طرح پائیدار امن کے لیے بھی تجاویز مختلف ہیں۔ صدر براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک مرتبہ کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں کارروائی ضروری ہے۔ مقامی تجزیہ نگاروں کا بھی خیال ہے کہ شدت پسندوں کے مراکز اور پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے سرحد پار فوجی آپریشن میں تیزی، افغانستان اور پاکستانی سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں شدت، افغان سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ اور ان کو جدید فوجی ساز و سامان کی فراہمی اور ساتھ ساتھ فضائیہ کو افغان نیشنل آرمی کے حوالے کرنا وہ نکات ہیں جو عسکری امور کے ماہرین مستقبل کے لیے لازمی سمجھتے ہیں۔ لیکن اوریجنل سٹڈیز سینٹر افغانستان کے ڈائریکٹر غفور لیوال کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ’افغانستان کے سیاسی، اجتماعی، اقتصادی، عسکری اور کلچر کے حالات کا دقیق مطالعہ کرنے کے بعد حقائق کی بنیادوں پر مبنی حکمت عملی بنایا جائے تاکہ افغانوں کو پتہ چل سکے کہ یہ ملک ان کا ہے اور ان کے لیے ہی کام ہو رہا ہے۔‘ حکت عملی میں تبدیلی کا مطالبہ افغان حکومت بھی بار بار دہرا چکی ہے لیکن تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے مطابق تاحال اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ |
اسی بارے میں جیل پر حملہ طالبان کی کامیابی: نیٹو14 June, 2008 | آس پاس ’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘ 30 July, 2008 | آس پاس طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم14 November, 2008 | آس پاس جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||