BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما کے نامزد کردہ ایلچی کون؟
ہولبروک اور مچل
ہولبروک اور مچل دونوں ہی امن معاہدوں کے معمار کے طور پر جانے جاتے ہیں
امریکی صدر باراک اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سینیئر سفارتکار رچرڈ ہولبروک کو پاکستان اور افغانستان جبکہ جارج مچل کو مشرقِ وسطٰی کے لیے نمائندۂ خصوصی مقرر کیا ہے۔

سفارتکاری کی دنیا میں رچرڈ ہولبروک کی سب سے بڑی اور نمایاں پہچان بوسنیا میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا ڈیٹن امن معاہدہ ہے۔ اس امن معاہدے پر ہولبروک کو سنہ 1995 میں نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

’بلڈوزر آف بلقان‘ کے نام سے شہرت پانے والے اڑسٹھ سالہ ہولبروک نے اپنے سفارتی کیریئر کا آغاز ویت نام میں اس وقت کیا جب جنوب مشرقی ایشیا میں چین اور بھارت نبرد آزما تھے۔ بعد ازاں وہ امریکی محکمۂ خارجہ کے یورپی اور ایشیائی بیورو کے سربراہ بھی رہے۔

رچرڈ ہولبروک نہ صرف جرمنی میں امریکہ کے سفیر بھی رہ چکے ہیں بلکہ وہ یورپی امور کے لیے امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور اسی حیثیت میں وہ قیام امن کی کوششوں کے لیے بوسنیا جانے والے وفد کا حصہ بنے تھے۔

بل کلنٹن کے دورِ صدارت میں وارن کرسٹوفر کے متبادل کے طور پر ہولبروک کا نام امریکی وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے سامنے آیا تاہم بعد ازاں میڈلین آلبرائٹ کو اس عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔

رچرڈ ہولبروک کو سات مرتبہ نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا

بعد ازاں سنہ 1998 میں بل کلنٹن نے انہیں اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی سفیر نامزد کیا تاہم امریکی سینیٹ نے ان کی نامزدگی کی توثیق میں چودہ ماہ کا وقت لیا۔

رچرڈ ہولبروک سنہ 2004 میں جان کیری کی صدارتی مہم کے مشیر تھے۔ سنہ 2008 کی صدارتی نامزدگی مہم میں رچرڈ ہولبروک نے ہلیری کلنٹن کا ساتھ دیا اور امورِ خارجہ کے لیے ان کے مشیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔

مشرقِ وسطٰی کے لیے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی جارج مچل بھی رچرڈ ہپولبروک کی طرح ایک ایسے مذاکرات کار ہیں جن کی کوششوں کی نتیجے میں شمالی آئرلینڈ میں برسوں سے جاری خونریزی کا خاتمہ ہوا۔

جارج مچل ایک سابق وفاقی جج اور ریٹائرڈ امریکی سینیٹر ہیں اور انہوں نے سنہ 1998 میں صدر کلنٹن کے نمائندۂ خصوصی کے طور پر آئرلینڈ میں تاریخ ساز ’گڈ فرائیڈے معاہدہ‘ کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔انہیں یہ معاہدہ کروانے پر سنہ 1999 میں امریکہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز صدارتی میڈل برائے آزادی بھی دیا گیا تھا۔

جارج مچل مشرقِ وسطٰی کے امور پرگہری نظر رکھتے ہیں

پچھہتر سالہ جارج مچل مشرقِ وسطٰی کے امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور سنہ 2001 میں انہیں اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جس کا کام سنہ 2000 میں دوسرے فلسطینی انتفادہ کی وجوہات جاننا تھا۔

سنہ 2000 میں اس وقت کے صدر بل کلنٹن نے انہیں اسرائیل فلسطین تنازعہ کی وجوہات پر ایک رپورٹ تیار کرنے کا کام بھی سونپا تھا لیکن مچل رپورٹ کے نام سے جانی جانے والی یہ رپورٹ جارج بش کے عہدۂ صدارت میں ہی پیش کی جا سکی تھی۔

اس رپورٹ میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ نئی بستیوں کی تعمیر روک دے جبکہ فلسطینیوں سے کہا گیا کہ وہ اسرائیلی مفادات پر حملے بند کریں اور ان حملوں کے ذمہ دار افراد کو سزا دیں۔ اس مچل رپورٹ نے ہی مشرقِ وسطٰی میں قیام امن کے نقشۂ راہ کی بنیاد ڈالی تھی۔

تاہم اس وقت جارج مچل کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ غزہ کا بحران ہے جہاں حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تیرہ سو سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں جبکہ پچاس ہزار سے زائد افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔

اوبامااوباما کا حلف
امریکی صدر کی حلف برداری:خصوصی ضمیمہ
گوانتاناموبے بند
اوبامہ کا حراستی مرکز کو ایک برس میں بند کرنے کا حکم
اوبامہ کا حکم
خلیج گوانتانامو: قیدیوں کی رہائی آسان نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد