نئے روسی منصوبے پر نیٹو کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس چاہتا ہے کہ یورپ میں سکیورٹی کے بارے میں ایک نیا معاہدہ کیا جائے کیونکہ اس کے خیال میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نیٹو کا نظام اب فرسودہ ہوچکا ہے۔ لیکن نیٹو کو تشویش ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے سے اس کا فوجی اتحاد کمزور پڑ جائے گا اور یہ معاہدہ روس کو اس کی ’جارحیت‘ کا انعام دینے کے مترادف ہوگا۔ یورپی امور کے ماہرہ ولیم ہورسلی کہتے ہیں کہ اس ماہ انگلینڈ میں نیٹو کی قیادت کا اجلاس ہوا جہاں افغانستان کی صورتحال پر تو غور ہوا ہی، لیکن روس کے ساتھ طویل مدتی ٹکراؤ کا خطرہ بھی موضوع بحث بنا۔ صحافیوں کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی لیکن شرط یہ تھی کہ وہ شرکاء کی اجازت کے بغیر کسی کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔ اجلاس میں کچھ اس طرح کی باتیں بھی ہوئیں۔ ’جورجیا میں روس نے جو کچھ کیا وہ معمول بن سکتا ہے۔‘ ’روس کے پاس اس بات کا ویٹو نہیں ہونا چاہیے کہ کون سے ملک نیٹو میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسے ویٹو مل گیا تو ہم ختم ہو جائیں گے۔‘ ’روس جارحانہ انداز میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ روس کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں میں تین باتیں گنائی جارہی ہیں۔ لیکن اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ روس کے معاملے میں نیٹو سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تنظیم میں اس بارے میں اب بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔
اس پس منظر میں روس نے اپنا نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کے خدوخال گزشتہ مہینے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) میں بیان کیے گیے تھے۔ اس چون رکنی تنظیم کا امریکہ بھی رکن ہے۔ روس کا موقف تھا کہ اس مجوزہ معاہدے سے باہمی شک و شبہات کا ماحول ختم ہوگا اور تمام رکن ممالک کو برابر سکیورٹی کی ضمانت ملے گی۔ روسی مبصرین کے مطابق نئی تجاویز کا ایک مقصد یہ ہے کہ او ایس سی ای ممالک کی طرف سے انسانی حقوق کی پاسداری پر زور اور میڈیا کی آزادی اور انتخابات کی مانیٹرنگ جیسے تقاضوں کا کمزور کیا جاسکے۔ روس کے مطابق اس نئے معاہدے میں رکن ممالک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی ضمانت ہوگی۔ بعض یورپی رہنماؤں نے روسی منصوبے پر ہمدردانہ موقف اختیار کیاہے۔ ان میں فرانس کے صدر نکولا سرکوزی میں شامل ہیں۔ لیکن بہت سے یورپی ممالک نے روس کا یہ پیغام سنجیدگی سے سنا ہے کہ اگر وہ مشرقی یورپ میں میزائل شیلڈ نصب کرنے کے امریکی منصوبے کی حمایت ترک کردیں اور جورجیا کو نیٹو میں شامل کرنے پر اصرار نہ کریں تو انہیں روس سے کوئی خطرہ نہیں۔ اور کئی ماہرین کا خیال ہے کہ روسی تجویز ’احمقانہ‘ نہیں اور یہ کہ انہیں خطوط پر اسلحے کے پھیلاؤ کو معاہد طے پاسکتا ہے جو صدر باراک اوباما نے تجویز کیا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہ یورپ کو اس وقت تک روس کے ساتھ اچھے تعلقات کی امید نہیں رکھنی چاہیے جب تک نیٹو کے تعلق سے روس کے خدشات دور نہیں ہوجاتے۔ نیٹو کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے شاید روس بھی زیادہ سخت موقف اختیار کرہا ہے۔ اب مغربی دنیا کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جورجیا کی جنگ کے بعد روس سے مذاکرات کا جو سلسلہ متاثر ہوا تھا اسے کس طرح بحال کیا جائے۔ بات چیت تو سبھی رکن ممالک بحال کرنا چاہتےہیں لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے کہ روس کے مطالبات کے سامنے کس حد تک جھکا جائے۔ بہر اب چھ فروری کو میونخ میں سکیورٹی کانفنرس ہورہی ہے جس میں یہ واضح اشارہ ملے گا حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو: قیدیوں کا کیا بنےگا؟23 January, 2009 | آس پاس پاکستان، افغانستان کے لیے ایلچی مقرر22 January, 2009 | آس پاس پانچ مقدمات کی سماعت معطل21 January, 2009 | آس پاس حلیف انداز تبدیل کریں: کرزئی21 January, 2009 | آس پاس ’گوانتاناموبے میں تشدد کیا گیا‘14 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||