مغوی سفارتکار، بے توجہی پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے ایوان زیریں یا اولسی جرگہ میں کافی عرصے کی خاموشی کے بعد سوموار کو نامزد افغان سفیر عبدالخالق فراہی کے حال ہی میں پشاور سے اغوا کا معاملہ اٹھایا گیا۔ کابل کے وسط میں وزارت تجارت کی عمارت میں عارضی طور پر قائم اولسی جرگے کے اجلاس کے دوران مسٹر فراہی کے پراسرار اغوا کی جانب توجہ جلال آباد سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی صفیہ صدیقی نے دلائی۔ ان کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ ملک کے ایک نمائندے اور سفیر کی گمشدگی کے معاملے پر مسلسل خاموشی ملک کی عزت اور وقار کے لیئے اچھی نہیں۔ انہوں نے افغان حکومت اور میڈیا پر اس معملے پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی خبریں ملی ہیں کہ افغان سفارت کار بازیابی کی کوشش میں زخمی ہوئے اور زیر علاج ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ بازیابی کی خبریں نشر ہونے کے باوجود ان کا سامنے نہ آنا قابل تشویش بات ہے۔ سپیکر محمد یونس قانونی نے بھی اتفاق کیا کہ اس معاملے پر تفصیلی بات ہونی چاہیے۔ تاہم اغوا شدہ نامزد سفیر کے بھائی اور اولسی جرگے کے رکن نعیم فراہی نے کہا کہ وہ خود یہ معاملہ اس لیئے نہیں اٹھانا چاہتے تھے کہ افغانستان میں روزانہ اغوا اور ہلاکتوں کے واقعات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے افغان وزارت خارجہ کے کسی اہلکار کو طلب کرکے ایوان کو بریف کرنے کی تجویز پیش کی۔ اولسی جرگہ اور افغان وزیر خارجہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے ایوان نے انہیں طلب کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایوان نے گزشتہ دنوں ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم صدر حامد کرزئی نے اس قرار داد کو مسترد کر دیا تھا۔ سپیکر یونس قانونی نے کہا کہ یہ معاملہ سوموار کو کابل پہنچنے والے پاکستانی پارلیمنٹ کے اراکین پر مشتمل وفد کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ یہ وفد ڈپٹی سپیکر فیصل کنڈی کی سربراہی میں کابل پہنچا ہے۔ سپیکر نے یہ معملہ اولسی جرگے کی وزارت خارجہ کمیٹی کے حوالے کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ |
اسی بارے میں پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا22 September, 2008 | پاکستان امریکیوں کی کہانی، انہیں کی زبانی 16 October, 2008 | آس پاس ’لڑائی سے بچ کر افغانستان کا رخ‘29 September, 2008 | آس پاس افغانستان: اکانوے عام شہری ہلاک22 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||