’نو گیارہ کے بعد عالمی قانون غیر موثر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء اور ججوں کے ایک عالمی کمیشن نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے جس طریقے سے دہشتگردی کے خلاف لڑائی لڑی ہے، اس میں بین الاقوامی قوانین سے احتراز کیا گیا ہے۔ قانون دانوں پر مشتمل کمیشن نے دنیا بھر میں تین سال تک تحقیق کے بعد اپنی رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ صدی میں انسانی حقوق کے بارے میں پیدا ہونے والے اتفاق رائے کو گزشتہ سات سال میں شدید دھچکا لگا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے نتائج بحیرہ اوقیانوس کے پار دونوں حکومتوں میں شامل کئی افراد کے لیے تکلیف دہ باتیں ہوں گی۔ قانونی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نو گیارہ سے پہلے بین الاقوامی قانون کا دائرہ کار موثر اور وسیع تھا۔ لیکن رپورٹ کے مطابق اب کئی ریاستیں بین الاقوامی قوانین سے باقاعدہ احتراز برت رہی ہیں اور مغربی جمہوریتیں خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ نے اس رجحان میں راستہ دکھانے کا کام کیا۔ رپورٹ کے مطابق دہشترگردی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے بہت سے اقدامات ناصرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان کا الٹا اثر ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں 09 March, 2006 | آس پاس حقوقِ انسانی اور امریکی تنقید10 May, 2006 | آس پاس واشنگٹن: انسانی حقوق کانفرنس08 February, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||