حقوقِ انسانی اور امریکی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ان ممالک کی شمولیت پر تنقید کی ہے جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے اس 47 رکنی کونسل کے بارے میں کہا کہ اس کا انجام بھی اس سے پہلے قائم ’ہیومن رائٹس کمیشن‘ والا ہی ہوگا جس کو ختم کر دیا گیا تھا۔ یہ کمیشن خاصی بدنامی کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے رکن ممالک میں خاص طور پر کیوبا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کیوبا نے اپنے انتخاب کو ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کونسل کے لیئے انتخابات سے پہلے ہی کئی ممالک پر تنقید کی تھی۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ کونسل رکنیت کے لیئے منتخب ہونے والے ان ممالک میں چین، سعودی عرب، اور روس کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔ تاہم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایک ترجمان کینیتھ راتھ نے یہ بھی کہا ہے کہ کونسل میں کئی ایسی طاقتور ممالک کے نہ شامل ہونا یوں اچھا ہے کہ یہ حکومتیں عالمی سطح پر انسانی حقوق کے امور میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’اس انتخاب سے اس بات کی ضمانت تو نہیں ملتی کہ کونسل کامیاب رہے گی لیکن یہ ایک صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے‘۔ کونسل کے انتخابات میں کل 67 ممالک نے حصہ لیا تھا۔ | اسی بارے میں پاکستان:انسانی حقوق کونسل میں09 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||