BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان:انسانی حقوق کونسل میں

حقوق انسانی کونسل پندرہ مارچ کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے وجود میں آئی تھی
پاکستان، بھارت اور سعودی عرب کو اقوام متحدہ کی نئی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اس موقع پر کہا کہ کچھ گروہوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان بھاری اکثریت سے یہ انتخاب جیت گیا ہے۔

’ہمیں جو ووٹ ملا ہے وہ ترقی پذیر ممالک کی بھارتی اکثریت کی حمایت کی وجہ سے ملا ہے اور اس وجہ سے کہ پاکستان ترقی پذیر اور اسلامی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔ یہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک رابطے کے طور پر پاکستان کے مثبت کردار کی عکاسی ہے‘۔

پاکستان کو 149 ووٹ ملے۔ اقوام متحدہ کے کل اراکین 191 ہیں۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کونسل کی رکنیت کے لیے نام دینے والے 65 ممالک میں سے سات کو نا اہل قرار دیا تھا جن میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔

اس کے علاوہ ایران، سعودی عرب، کیوبا، روس، چین اور آذربائیجان بھی اس فہرست میں شامل تھے۔

سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں سے امریکہ نے اس کونسل کے لیئے اپنا نام داخل نہیں کیا تھا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ اس کونسل کے لیے معیار مزید بلند ہونے چاہئیں اور انتخاب دو تہائی اکثریت سے ہونا چاہیئے جب کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی رکنیت پر پابندی ہونی چاہیے۔

البتہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے حصہ نہ لینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انتخابات خفیہ ووٹ کے ذریعے تھے اور امریکہ کو خدشہ تھا کہ وہ یہ انتخاب ہار نہ جائے۔ عراق کی جنگ اور گوانتانامو جیل کے علاوہ ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی جیسے واقعات سامنے آنے کے بعد سے دنیا بھر میں امریکہ مخالف جذبات زوروں پر ہیں اور انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے امریکہ پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

امریکہ کو ڈر تھا
 کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے حصہ نہ لینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انتخابات خفیہ ووٹ کے ذریعے تھے اور امریکہ کو خدشہ تھا کہ وہ یہ انتخاب ہار نہ جائے۔

ایشیائی گروہ میں سب سے زیادہ یعنی 173 ووٹ بھارت کو ملے۔ سعودی عرب کو 126، چین کو 146 اور بنگلہ دیش کو 160 ووٹ ملے۔

ایران کو صرف 58 ووٹ ملے اور وہ کونسل کی رکنیت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل 9 مئی کو اس نئی کونسل کے 47 اراکین کے انتخاب کے لیے خفیہ ووٹ ڈالے۔ جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ کی جن تنظیموں یا گروہوں کا براہ راست انتخاب کرتی ہے یہ ان میں اب تک کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔

منتخب اراکین تین سال تک کام کریں گے۔ اس کونسل میں مزید تین ذیلی گروہ ہوں گے جن کی رکنیت ایک، دو یا تین سال کے لیے ہوگی۔ کس ملک کو کس گروہ میں رکھنا ہے اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔

حقوق انسانی کونسل پندرہ مارچ کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے وجود میں آئی تھی۔ اس سے پہلے انسانی حقوق کمیشن کو اس لیے ختم کر دیا گیا کہ اس پر اعتراض تھا کہ اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک بھی شامل تھے۔ لیکن ان میں سے کئی ممالک اس نئی کونسل کے رکن بن گئے ہیں۔

موجودہ کونسل کے ارکان میں سے 13 کا تعلق افریقہ، 13 کا ایشیاء، 6 کا مشرقی یورپ، 8 کا لاطینی امریکہ اور کیریبین، اور 7 کا مغربی یورپ اور امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے دیگر ممالک سے ہونا لازمی ہے۔ رکنیت کے امیدواروں کو کم از کم 96 ووٹ درکار تھے۔

تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت اور جنوبی افریقہ کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر بھی تنقید کی تھی لیکن ان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی تھی۔

اس کونسل کا ممبر بننے والے ممالک کو انسانی حقوق کے اپنے داخلی ریکارڈ پر نظر رکھنی ہوگی۔

اسی بارے میں
امداد کے لیے، سب سے بڑی اپیل
01 December, 2005 | پاکستان
یونسیف نے ریکارڈ توڑ دیا
24 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد