BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2009, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واشنگٹن: انسانی حقوق کانفرنس

مائیک گریوال فائل فوٹو
صدر اوبامہ سے مسلمانوں کیلیے مثبت پالیسوں کی توقع عبث ہے
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک مسلم تنظیم 'امریکن مسلم ٹاسک فورس فار ہیومن رائیٹس اینڈ الیکشن‘ کی طرف سے انسانی حقوق پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس سے امریکہ اور پاکستان کی اہم شخصیات نے خطاب کیا ہے۔

مقررین میں امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک، پہلے مسلمان منتخب رکن کانگرس کیتھ ایلیسن، مشہور صحافی اور بائیں بازو کے ریڈیو فری سپیچ سے تعلق رکھنے والی ایمی گڈمین، سابق سینٹر مائيک گریول، عراق جنگ میں مارے جانے والی فوجی کی ماں اور اب جنگ مخالنف تحریک میں سرگرم کارکن سنڈی شیان اور افریقی امریکی مقتول رہنما میلکم ایکس کی بیٹی ملائیکہ شہباز کے علاوہ پاکستان سے مسلم لیگ نون کے رہنما جاوید ہاشمی نے بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے ایک مقامی ہوٹل میں جمعے کے روز شروع ہونیوالی یہ کانفرنس سنیچر کو دوسرے روز بھی رات گئے تک جاری رہی جس کا مقصد، کانفرنس کے منتظمین ’امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں میں انسانی حقوق کی تحریک اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کیلیے آگہی پیدا کرنا‘ بتاتے ہیں۔
امریکن مسلم ٹاسک فورس فار ہیومن رائیٹس اینڈ الیکشن نامی یہ تنظیم، امریکہ میں کئي مسلم تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم بتایا جاتا ہے جس کے بانی معروف لیکن متنازعہ مسلم متحقق اور شہری حقوق کے سرگرم کارکن ڈاکٹر آغا سعید ہیں جو برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ابلاغ عامہ کے پروفیسر ہیں۔

امریکن مسلم ٹاسک فورس آن ہیومن رائیٹس اینڈ ایلکشن کی طرف سے منظم کی جانے والی اس انسانی حقوق کی کانفرنس کے دوسرے دن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل اور عالمی شہرت یافتہ قانون دان رمزے کلارک نے کہا کہ امریکہ کے نئے صدر باراک اوبامہ سے امریکہ میں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی بہتری کی توقعات کی جا سکتی ہیں کیونکہ امریکہ میں بہت سے مسلمان رہنما ان کو ذاتی طور جانتے ہیں اور وہ اب تک درست سمت میں جا رہے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے امریکہ میں اس بڑے چیمپیئن اور سابق اٹارنی جنرل نے امریکی نائب صدر جو بائيڈن پر ایران کے متعلق تازہ بیان پر ان کے خلاف شدید نکتہ چینی کرتے ہو کہا کہ ’کیرٹ اینڈ اسٹک‘ یا ’لاٹھی اور لالچ‘ کا تصور تذلیل کے مترداف ہوتا ہے اور امریکی انتظامیہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ وہ لوگوں پر بم برسانے اور انہیں قتل کرنا بند کردے گی۔

کانفرنس میں پاکستان مسل لیگ (نواز) کے جاوید ہاشمی بھی شریک تھے

کانفرنس میں امریکہ کے پہلے منتخب مسلمان کانگرس مین کیتھ ایلیسن پر غزہ کی صورت حال پر اسرائيل کے خلاف، بقول ان کے ناقدین، متحرک نہ ہونے پر تنقید کی گئي۔ جبکہ امریکی ریاست الاسکا سے سابقہ منتخب سینیٹر مائیک گریول نے کہا کہ صدر اوبامہ سے مسلمانوں کیلیے مثبت پالیسوں کی توقع عبث ہے۔

مسلم ٹاسک فورس آن ہیومن رائیٹس اینڈ الیکشن کی طرف سے کروائے گئے سرویز کے مطابق امریکہ میں گذشتہ صدارتی اتنخابات دو ہزا ر آٹھ میں امریکی مسلمانوں کے پچانوے فی صد نے حصہ لیا تھا جس میں ستاسی فی صد ووٹ صدر باراک اوبامہ کے حق میں ڈالے گئے تھے۔ آغا سعید کا کہنا تھا کہ امریکی مسلمانوں کا اتنا بڑا (پچانوے فی صد) ٹرن آؤٹ امریکی انتخابات کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں پڑا تھا۔

اس تنظیم کے پروفیسر ڈاکٹر آغا سعید کا دعویٰ ہے کہ ان کی تنظیم امریکی مسلمانوں میں انسانی حقوق اور انتخابات میں حصہ لینے کے متعلق آگاہی کا کام کرتی رہی ہے۔

کانفرنس میں جنگ عراق میں ہلاک ہوناولےامریکی فوجی کی ماں اور اب جنگ مخالف تحریک کی سرگرم کارکن سینڈی شیان نے اسرائيل کو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانفرنس کے ڈھائي سو شرکا میں اکثریت پاکستانی مردوں اور خواتین کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد