’انسانی حقوق کو ترجیح ضروری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عیسائی کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ نے کہا ہے کہ انسانی حقوق اقوام عالم کی مشترکہ زبان ہونی چاہیے۔ پوپ بینڈکٹ جو آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں جمعہ کی صبح نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔ پوپ جان پال کے جانشین کے طور پر منتخب ہونے کے بعد پوپ بینڈکٹ کا اقوام متحدہ یا اس کی جنرل اسبملی سے پہلا خطاب تھا۔ اقوامِ متحدہ کی بانوے رکنی جنرل اسمبلی کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے پوپ بینڈکٹ نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک اور تہذیبوں کے درمیان سیاسی اور سماجی اختلافات کی خلیج ختم نہیں تو کم ضرور ہونی چاہیے کیونکہ یہ اختلافات قوموں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ پوپ نے کہا کہ دنیا میں حکومتوں کی ترجیحات انسانی حقوق کو دینے سے تشدد اور جنگيں ختم ہو سکتے ہیں۔ پوپ بینڈکٹ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر انسانی حقوق کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اقوام عالم کی مشترکہ زبان ہونی چاہیے۔ پوپ بینڈکٹ کی اقوامِ متحدہ آمد سے پہلے اور ان کے خطاب کے دوران زبردست حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آئے یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں کام کرنے والی پریس کورز سمیت یو این عملے کے ایسے اراکین کو بھی چھٹی دے دی گئي تھی جن کے کام کرنے کا علاقہ پوپ کے دورے کے موقع پر سکیورٹی زون میں آتا تھا۔ پوپ بینڈکٹ اپنے نیویارک کے دورے کے دوران مین ہٹن میں یہودیوں کے مشہور سائناگاگ میں ایک بڑے اجتماع سے بھی خطاب کرنے والے ہیں۔ مقامی امریکی میڈیا کے مطابق، عیسائی کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا ایک مقامی سٹیڈیم میں اتوار کی عبادت کی رہنمائی کریں گے جس میں عیسائیوں کے علاوہ مختلف عقیدوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بہت بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع ہے۔ | اسی بارے میں امریکی پادریوں پر پوپ کی تنقید17 April, 2008 | آس پاس ہم آہنگی مذاکرات پوپ کی میزبان میں06 March, 2008 | آس پاس پوپ کی حمایت میں ہزاروں کا مجمع20 January, 2008 | آس پاس پوپ بینیڈکٹ کو سادگی کا مشورہ16 December, 2007 | آس پاس مذاہب نفرت کے آلۂ کار نہیں:پوپ21 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||