BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 08:32 GMT 13:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال
فائل فوٹو
ایمنسٹی کے مطابق چین میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوا ہے
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین میں اولمپک کھیلوں کے انعقاد سے انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئی ہے۔

چین کی حکومت نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ پر ابھی تک اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم وہ عام طور پر ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ایمنسٹی نے اپنی دستاویز میں کئی طرح کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کارکنان کی جیل میں قید، لوگوں کو بےگھر کرنا، صحافیوں کو حراست میں رکھنا، ویب سائٹوں کو بلاک کرنے اور جیلوں میں پٹائی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایمنسٹی کی ڈپٹی پروگرامر روزیانہ رائف کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے دیکھا کہ اولمپکس کی وجہ سے انسانی حقوق بدتر ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مقامی کارکنان کے خلاف کاروائیوں اور میڈیا پر سینسرشپ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘

تنظیم کے ایک ترجمان مارک الیزن نے اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

’ہم پھر ان عالمی رہنماؤں سے، جو کھیل کی تقریب میں شرکت کا منصوبہ رکھتے، کہتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ وہ حکام جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ اس سے باز رہیں۔‘

اولمپک مشعل کی ریلے کے دوران چین کے خلاف احتجاج ہوا تھا

ہانگ کانگ میں بی بی سی کے نمائندے وؤڈین انگلینڈ کا کہنا ہے کہ جب چین کو اولمپک کھیلوں کے انعقاد کا موقع دیا گیا تھا تب اس نے کہا تھا کہ وہ ان انسانی اقدار کی پاسبانی کرےگا جن کا اولمپکس سے گہرا ناطہ ہے۔

چین نے انسانی حقوق، پریس کی آزادی، صحت اور تعلیم کے لیے سہولیات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایمنسٹی کے مطابق ہوا سب کچھ اس کے برعکس ہے۔

چینی تنظیم ’چائنا سوسائٹی آف ہیومن رائٹس سٹڈیز‘ نے اس طرح کی نکتہ چینی کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ اس تنظیم کے زئانگ لی کا کہنا ہے’ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ چین میں انسانی حقوق کی صورت حالت مزید خراب ہوگئی ہے لیکن یہ بیشتر چینی عوام کے احساسات کے بر عکس ہے۔‘

چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کے کئی رہنما وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد