چین، تائیوان مذاکرات پر آمادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تائیوان نے چین کی ایک عشرے کے بعد دو طرفہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیش کش قبول کر لی ہے۔ چینی حکام نے تائیوانی حکام کوگیارہ جون سے بیجنگ میں شروع ہونے والے مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ان مذاکرات میں سیاحت اور چارٹرڈ طیاروں کی پروازوں پر بات چیت کی جائے گی۔ تائیوان نے کہا ہے کہ اس بات چیت کے لیے ایک وفد ترتیب دیا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز تائیوان کی حکومتی جماعت کے سربراہ نے چینی صدر ہو جنتاؤ سے ملاقات کی۔ یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان اس سطح پر ملاقات ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ چین اور تائیوان انیس سو انچاس میں علیحدہ ہوئے تھے۔ چین نے تائیوان کے سٹریٹس ایکسچینج فاؤنڈیشن کے حکام کو مدعو کیا ہے۔ سٹریٹس ایکسچینج کے حکام کو امید ہے کہ اس بات چیت میں دونوں ممالک کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں اس سال مارچ سے بہتری آ رہی ہے۔ تائیوان کے نئے صدر ما ینگ جیو نے اس امر میں کافی کوشش کی ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنوا کے مطابق گیارہ سے چودہ جون تک ہونے والی بات چیت میں مین لینڈ چین سے تائیوان سیاحت کے لیے جانے والے افراد اور چارٹرڈ طیارے زیر بحث آئیں گے۔ تائیوان کے صدر ماینگ چھ روزہ دورے پر چین میں ہیں اور انہوں نے اس دورے کو ’امن کا باب‘ کہا ہے۔ تائیوان کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے خلاف کبھی ہتھیار نہ اٹھائیں۔ چین کے صدر نے تائیوان کا زلزلے کے متاثرین کی مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ | اسی بارے میں تائیوان: چین نواز صدر کی کامیابی23 March, 2008 | آس پاس تائیوان: چین نواز جماعت کامیاب13 January, 2008 | آس پاس چین: کمیونسٹ پارٹی پر تنقید15 October, 2007 | آس پاس چین میں تین روزہ قومی سوگ19 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||