BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 May, 2008, 03:17 GMT 08:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین میں تین روزہ قومی سوگ
 زلزلے کےمتاثرین
چین نے متعدد ممالک کی جانب سے ا مدادی کاموں کے لیے فوجیوں کو بھیجنے کی پیش کش مسترد کردی
چین کے صوبہ سیچوان میں سات عشاریہ آٹھ کی شدت کے زلزلے میں دسیوں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا تین روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں تمام سرکاری تفریحی تقریبات معطل کر دی گئی ہیں اور قومی پرچم ملک اور بیرون ملک میں سرنگوں رہے گا۔

دو پہر دو بجکر اٹھائیس منٹ پر جو زلزلے کا وقت ہے پورے ملک میں عوام تین منٹ کی خاموشی اختیار کریں گے اور تین روزہ سوگ کے دوران اولمپک مشعل ریلی بھی معطل رہے گی۔

بچ جانے والے
 اب بھی عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ اتوار کو ایک شخص کو زلزلے کے ایک سو انتالیس گھنٹے کے بعد نکالا گیا۔ اسے زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں۔ اسی طرح ایک ترپن سالہ شخص کو ایک سو اڑتالیس گھنٹے کے بعد نکالا گیا۔ امدادی کارکنوں کو اسے نکالنے میں آٹھ گھنٹے لگے
اسی اثناء میں چین میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے سامان لے کر امریکی فوج کا طیارہ چین پہنچ گیا ہے۔ سولہ لاکھ ڈالر مالیت کی امریکی فوجی امداد میں کھانے پینے کی اشیا، جنریٹر، لحاف اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

اب تک ہانک کانگ اور تائیوان سمیت جاپان، روس، سنگا پور اور جنوبی کوریا زلزلے سے متاثرہ علاقو ں میں اپنی اپنی امدادی ٹیمیں بھیج چکے ہیں۔ تاہم چین نے متعدد ممالک کی جانب سے ا مدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے فوجیوں کو بھیجنے کی پیش کش مسترد کردی ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق چین میں زلزلے سے اب تک چونتیس ہزار چار سو ستتر افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد پچاس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ دو لاکھ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے عالمی برداری کا امداد بھیجنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ چین کے حکام کے مطابق بیرونی ممالک کی طرف امداد کی مالیت آٹھ سو ساٹھ ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

دریں اثناء ایک برطانوی امدادی ٹیم جو ہانگ کانگ میں ٹھہری ہوئی تھی متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نے ملنے کے بعد واپس آ رہی ہے۔

چین کت سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اب بھی عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ اتوار کو ایک شخص کو زلزلے کے ایک سو انتالیس گھنٹے کے بعد نکالا گیا۔ اسے زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں۔ اسی طرح ایک ترپن سالہ شخص کو ایک سو اڑتالیس گھنٹے کے بعد نکالا گیا۔ امدادی کارکنوں کو اسے نکالنے میں آٹھ گھنٹے لگے۔

ایک اور شخص کی ملبے کے نیچے سے اپنی بیوی سے فون پر بات کروائی گئی تو اس نے کہا کہ اس کے بچنے کا امکان بہت کم ہے۔ اسے بعد میں ملبے کے نیچے سے نکال لیا گیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

برماچین اور برما
دو ملک ایک سی تباہی، مختلف رد عمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد