BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 May, 2008, 09:18 GMT 14:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: زلزلہ متاثرین میں بھگدڑ
لوگ زلزلے سے متاثرہ عمارتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں
چین کے زلزلہ سے متاثرہ شہر بیچوان میں قریب کے ایک دریا کا کنارہ کٹنے کے بعد سیلاب کی افواہ کی وجہ سے سنیچر کو بڑے پیمانے پر افراتفری اور بھگدڑ کا ماحول پیدا ہوگیا۔

بیچوان میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ڈنہر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات کے بعد کہ سیلاب پورے شہر میں پھیل جائے گا، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اونچی جگہوں کی جانب دوڑنے لگے۔

’ہر شخص بھاگ رہا تھا، امدادی کارکن، مقامی باشندے، طبی عملے کے ارکان، مدد پہنچانے والے فوجی۔ اور اس بھگدڑ میں بہت لوگ پیچھے رہ گئے۔‘

’ہم لوگ ایک شخص کی فلم بنا رہے تھے جس کو ملبے کے اندر سے نکالا جا رہا تھا، لیکن سیلاب کی خبر ملتے ہی امدادی ٹیمیں اسے وہیں چھوڑ کر بھاگنے لگے۔‘

ملبے کے اندر سے پھنسے ہوئے لوگ
 چینی اہلکار ملبے کے اندر سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنیچر کے روز بھی بیچوان شہر میں تینتیس افراد کو ملبوں کے اندر سے نکالا گیا ہے۔ ایک باون سالہ شخص کو 117 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا جبکہ وینچوان شہر میں ایک جرمن سیاح کو 114 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا ہے۔
پال ڈنہر کا کہنا ہے کہ پورے شہر کو خالی کرالیا گیا اور حالیہ زلزلے کے بعد ہونے والی امدادی کارروائیاں معطل کردی گئیں۔

بیچوان گزشتہ پیر کو آنے والے زلزلے کے مرکز سے قریب ہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ زلزلے سے لگ بھگ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم سنیچر کو چینی حکام نے زلزلے سے ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد لگ بھگ انتیس ہزار بتائی ہے۔ زلزلے کے متاثرین کی تعداد لگ بھگ پچاس لاکھ بتائی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اب واپس بیچوان میں آچکے ہیں۔ چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دریا کا کنارہ پھٹ گیا تھا لیکن اب شہر کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پھر بھی بہت لوگ اونچی پہاڑیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

پال ڈنہر کا کہنا ہے کہ سیلاب کی اطلاع ملتے ہی جو لوگوں کا ردعمل تھا اس پر تعجب کی بات نہیں کیونکہ زلزلے کی وجہ سے یہاں کے تمام لوگ خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں اور زلزلے سے متاثرہ عمارتیں جیسے بکھرنے کو ہیں۔

چینی اہلکار ملبے کے اندر سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنیچر کے روز بھی بیچوان شہر میں تینتیس افراد کو ملبوں کے اندر سے نکالا گیا ہے۔ ایک باون سالہ شخص کو 117 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا جبکہ وینچوان شہر میں ایک جرمن سیاح کو 114 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد