BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 01:34 GMT 06:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین:زلزلہ متاثرین کی تعدادایک کروڑ
چین میں زلزلہ
تباہ شدہ علاقے میں ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دفن ہیں
چین میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو جنوب مغربی صوبے سیچوان میں آنے والے زلزلے سے ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ مزید تیس ہزار فوجیوں کو امدادی کاموں میں شرکت کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

چین میں پیر کو آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچ گئی ہے اور حکام کے مطابق اس تعداد میں اضافہ یقینی ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چھبیس ہزار لوگ اب بھی اس زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ زلزلے کے تین دن بعد بہت سے متاثرین عارضی کیمپوں میں موجود ہیں اور انہیں مناسب خوراک اور صاف پانی بھی میسر نہیں۔ متاثرہ علاقے میں موجود سٹیڈیموں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

چینی حکام نے امدادی کاموں میں شرکت کے لیے مزید تیس ہزار چینی فوجی اور نوّے ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیے ہیں۔ اس سے قبل چینی حکومت نے زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے پچاس ہزار فوجی تباہ حال علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے تھے۔

فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ان چار سو ڈیموں کی ممکنہ مرمت کے لیے بھی بھیجی گئی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں مصروف فوجی جوانوں نے سیچوان صوبے میں واقع ایک ڈیم کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا کام سرانجام دیا ہے۔ دوجیانیانگ نامی شہر کے قریب واقع اس ڈیم میں پیر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔

سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے کا مرکز سیچوان صوبے کی وینچوان کاؤنٹی تھی۔وینچوان میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ سے ہونے والی تباہی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔’علاقے کی تمام سڑکیں بند ہیں اور بچے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں‘۔ دس ہزار آبادی کے ینگزیو نامی قصبے سے اب تک صرف تئیس سو زندہ لوگوں کا پتہ چلایا جا سکا ہے ۔

امداد کے لیے علاقے میں موجود کارکن وینگ یی نےسیچوان آن لائن نیوز سائٹ کو بتایا ہے کہ کچھ قصبوں میں تو ایک بھی گھر باقی نہیں بچا ہے سب زمیں بوس ہو چکے ہیں۔ بی بی سی کے مائیکل برسٹو کے مطابق بیچوان شہر کو جانے والی سڑک پر ہر جاب منہدم شدہ عمارتیں ہیں۔

برماچین اور برما
دو ملک ایک سی تباہی، مختلف رد عمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد