BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 02:12 GMT 07:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: زلزلے سے ’پچاس لاکھ‘ بےگھر
چین میں زلزلہ
جمعہ کو ملبے سے پانچ سالہ بچے سمیت چار افراد زندہ نکالے گئے
چین کے سرکاری حکام کے مطابق صوبہ سیچوان میں پیر کو آنے والے شدید زلزلے سے پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پچاس ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

چینی حکام نے اب تک بائیس ہزار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ اب بھی ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔

سیچوان کے نائب گورنرلی چینگ یون کے مطابق زلزلے کے بعد سے اڑتالیس لاکھ افراد عارضی پناہ گاہوں میں قیام پذیر ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد کی بےسروسامانی کی اصل تصویر زلزلے کے چار دن گزرنے کے بعد ہی سامنے آ سکی ہے۔ ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ آج(جمعہ) سے قبل کچھ شہروں اور علاقوں تک رسائی کا نظام اور سڑکیں بند تھیں اور اب رابطے بحال ہونے کی وجہ سے ہی متاثرین کی تعداد میں اچانک تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے‘۔

چین کے صدر ہو جن تاؤ نے بھی جمعہ کی صبح متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیاں ’سب سے نازک مراحل‘ میں داخل ہوگئی ہیں۔

امدادی کارروائیاں نازک ترین مراحل میں ہیں:ہوجن تاؤ

ہو جن تاؤ نے کہا کہ’ ابھی مشکلیں درپیش ہیں اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ امدادی کاموں کے حوالے سے مکمل کامیابی حاصل کی جا سکے‘۔

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے بھی کہا ہے کہ یہ زلزلہ جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے بدترین تباہی کا حامل زلزلہ تھا جس میں ایک کروڑ سے زائد آبادی متاثر ہوئی ہے۔ ان کہنا تھا کہ اس زلزلے سے سنہ 1976 میں آنے والے زلزلے کی نسبت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سنہ 76 کے زلزلے میں دو لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چینی حکام نے اس بات کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے کہ زلزلے سے گرنے والی عمارتوں میں زیادہ سکولوں کی عمارتیں ہی کیوں تھیں۔

چین کی جانب سے متاثرین کے لیے دی جانے والی عالمی امداد قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد جاپانی امدادی ماہرین کی ایک ٹیم جمعہ کو چین پہنچی ہے جبکہ تھائی لینڈ، روس تسنگاپور اور جونی کوریا کی امدادی ٹیمیں بھی چین پہنچنے والی ہیں۔چینی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے درکار بنیادی سازو سامان کے لیے اپیل بھی کی ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ہتھوڑوں، کرینوں، کدالوں اور ربر کے جوتوں کی اشد ضرورت ہے۔

متاثرہ علاقوں سے لاشوں کی منتقلی کا کام بھی جاری ہے

وزارتِ صحت کے مطابق متاثرین کو ادویات اور طبی سہولیات کی ضرورت ہے کیونکہ متاثرین میں سے زیادہ تر کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں یا اندرونی اعضا کچلے گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے ژن ہوا نے نائب وزیرِ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق ہسپتالوں میں زلزلے سے متاثرہ چونسٹھ ہزار افراد کا علاج کیا گیا ہے جن میں ساڑھے بارہ ہزار شدید زخمی بھی شامل ہیں۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک امدادی کارکنوں نے ساٹھ ہزار متاثرہ افراد کو بچا لیا گیا ہے اور زلزلے کو چار دن گزر جانے کے باوجود ملبے سے متاثرہ افراد کے زندہ نکالے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جمعہ کو بھی چار افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ بچائے جانے والے افراد میں ایک پانچ سالہ بچہ، تئییس سالہ نرس بھی شامل ہیں۔ امدادی کاموں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ اب بھی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ہمارے کاموں میں سرِ فہرست ہے کیونکہ اب بھی امید باقی ہے۔

برماچین اور برما
دو ملک ایک سی تباہی، مختلف رد عمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد