تائیوان: چین نواز جماعت کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تائیوان کے پارلیمانی انتخابات میں سرکاری نتائج کے مطابق چین نواز اپوزیشن پارٹی ’کے ایم ٹی‘ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کے ایم ٹی یعنی گواؤمِنڈانگ پارٹی نے، جو کہ چین سے قریبی تعلقات کی حامی ہے، ایک سو تیرہ میں سے اکیاسی نشستیں اور کل بہتر فیصد ووٹ حاصل کیے۔ تائیوان کے صدر چِن شوئی-باین کی جماعت ڈی پی پی یعنی ڈیموکریٹِک پروگریسِو پارٹی کو صرف ستائیس سیٹیں ملیں جس کے بعد صدر نے پارٹی چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو بائیس مارچ کے صدارتی انتخاب کا بیرومیٹر سمجھا جارہا ہے۔ چین تائیوان کو ایک ’منحرف صوبہ‘ سمجھتا ہے اور اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں میں ہے۔ تائیوان کے سن 2005 کے ایک نئے قانون کے تحت پارلیمان کی نشستوں کو گھٹاکر 225 سے ایک سو تیرہ کر دیا گیا تھا تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہوسکے اور حکومتی اداروں کو بااثر بنایا جاسکے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ نشستیں کم کرنے سے چھوٹی جماعتوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ چینی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تائیوان کی دونوں جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران لوکل ایشوز اٹھائے اور ’چین سے اتحاد کا معاملہ‘ اٹھانے سے کتراتے رہے۔ چین کی حکومت نے بھی انتخابات کے موقع پر تائیوان کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا تھا کیونکہ اسے ایسے لائحۂ عمل سے ماضی میں کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ امریکہ اور فرانس جیسے ممالک کو اس بات پر راضی کرے کہ وہ تائیوان کی اقوام متحدہ میں شمولیت سے متعلق ریفرنڈم کی مخالفت کریں۔ | اسی بارے میں مداخلت ناقابل برداشت: چین06 March, 2005 | آس پاس تائیوان آزادی: طاقت کااستعمال ممکن14 March, 2005 | آس پاس چین پرامریکہ اور تائیوان کی تنقید 14 March, 2005 | آس پاس تائیوان میں چین کے خلاف مظاہرہ26 March, 2005 | آس پاس چین تائیوان قریبی تعلقات کی اپیل29 April, 2005 | آس پاس چین کی ایٹمی دھمکی سے پسپائی 16 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||