تائیوان: چین نواز صدر کی کامیابی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تائیوان کے صدارتی انتخابات میں چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے دعویدار امیدوار ما ینگ جیو نےبھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تائیوان کے صدر نے کامیابی کے بعد ایک بار اپنے اس وعدے کو دہرایا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کریں گے۔ تائیوان کے نئے صدر نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ امن معاہدے کے لیے بات چیت کے عمل کو شروع کرنے پر تیار ہوں گے بشرطیکہ چین ان تمام میزائلوں کے رخ موڑ لے جن کو تائیوان پر نشانہ لگانے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ ما ینگ جیو نے اپنے حریف فرینگ ہزے کو باآسانی شکست دے دی۔ سرکاری نتائج کے مطابق ما ینگ جیو کو اپنے حریف پر سترہ فیصد ووٹروں کی برتری حاصل ہے۔ ما ینگ جیو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو وہ چین کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ما ینگ جیو کا خیال میں چین کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے پہلے اقتصادی راوبطہ کو بڑھا ضروری ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے ما ینگ جیو کو کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ دونوں فریقوں کے لیے اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کا ایک نیا موقع ہے۔ ما ینگ جیو کی جماعت کیومنٹانگ جنوری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ چین تائیوان کو ایک ’منحرف صوبہ‘ سمجھتا ہے اور اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں میں ہے۔ | اسی بارے میں چین تائیوان قریبی تعلقات کی اپیل29 April, 2005 | آس پاس چین پرامریکہ اور تائیوان کی تنقید 14 March, 2005 | آس پاس تائیوان آزادی: طاقت کااستعمال ممکن14 March, 2005 | آس پاس مداخلت ناقابل برداشت: چین06 March, 2005 | آس پاس بیجنگ: تائیوان پر حملے کا امکان30 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||