اولمپک مینو میں کتّے کاگوشت نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں حکام نے اولمپکس کے دوران ایک سو بارہ ریستورانوں کے کھانے کے مینو میں کتے کا گوشت شامل نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اولمپکس دیکھنے کے لیے آنے والے غیر ملکی شہریوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے۔ ریستوران مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی کھانے میں کتّے کا گوشت مانگتا ہے تو اسے دیگر کھانوں کا مشورہ دیا جائے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ادارے زن ہوا کے مطابق اگر کسی ریستوران نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے’ بلیک لسٹ‘ کر دیا جائے گا۔ یہ پابندی بیجنگ کی ’ کیٹرنگ ٹریڈ ایسوسی ایشن‘ کی جانب سے عائد کی گئی ہے۔بیجنگ ٹورازم کے نائب ڈائریکٹر زیؤنگ یمئی نے خبر رساں ادارے زن ہوا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر کوئی کّتے کا گوشت مانگتا ہے تو ریستوراں کے عملے کو دیگر چیزوں کے بارے میں اسے بتانا چاہیے‘۔ بی بی سی کے نامہ نگار جیمس رینلڈز کے مطابق یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ غیر ملکی شہری علاقائی عادتوں اور رسومات سے حیران نہ ہوں۔ یاد رہے کہ 1988 میں سیول اولمپکس کے دوران بھی جنوبی کوریا نے کتّے کے گوشت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ | اسی بارے میں چین: خوشحالی کی بہت بڑی قیمت 20 September, 2007 | آس پاس چین میں ’مزدوروں کا استحصال‘ 11 June, 2007 | آس پاس چین: ڈرپ کے ذریعے ’جعلی خون‘11 June, 2007 | آس پاس چینی بلاگر شناخت چھُپا سکتے ہیں24 May, 2007 | آس پاس 2008 گیمز، ایمنسٹی کی تنقید30 April, 2007 | آس پاس چین: مسلمان رہنما کو سزائے موت09 February, 2007 | آس پاس چین:18’مسلم شدت پسند‘ہلاک08 January, 2007 | آس پاس چین عوام کو آزادی فراہم کرے: بش20 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||