تبت میں کارروائی داخلی مسئلہ: چین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہوجِنتاؤ نے تبت میں چینی کارروائی کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ چين کو متحد رکھنے کے لیے یہ پوری طرح اس کا داخلی معاملہ ہے۔ ہو جنتاؤ نے کہا کہ گزشتہ ماہ کی کارروائی جلا وطن مذہبی رہنما دلائی لامہ کے حامیوں سے تنازعہ کا نتیجہ تھی۔ چینی صدر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اولمپک مشعل کے سفر کے دوران بہت سے کارکنان جو چین کی کارروائیوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں احتجاج کرتے رہے ہیں۔ چینی نیوز ایجنسی زنوا کے مطابق صدر ہو جِنتاؤ نے کہا ہے کہ ’دلائی لامہ کے ساتھ ہمارا نسلی، مذہبی یا کوئی انسانی حقوق کا تنازعہ نہیں ہے۔‘ ایجنسی کے مطابق یہ باتیں انہوں نے آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رڈ سے بات چیت میں کہی ہیں جو چین کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے مسٹر رڈ کو بتایا کہ ’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ یا تو قوم کے اتحاد کی حفاظت کی جائے یا پھرمادر وطن کو ٹوٹنے دیا جائے۔‘ تبت میں گزشتہ ماہ بے چینی پیدا ہونے کے بعد سے اس پر چینی صدر کا یہ پہلا بیان ہے۔ تبت کے جلا وطن گروپز کا کہنا ہے کہ چینی سکیورٹی فورسز نے درجنوں مظاہرین کو ہلاک کیا ہے جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ ہنگامہ برپا کرنے والے انیس لوگ مارے گئے ہیں۔
دلائی لامہ چینی حکام کے ان الزمات سے انکار کرتے ہیں کہ اولمپک سے عین قبل تبت اور آس پاس کے علاقوں میں پر تشدد مظاہرے اور احتجاج کرنے میں ان کا ہاتھ تھا تاکہ بیجنگ کو بدنام کیا جاسکے۔ ایک امریکی ٹی وی چینل پر اپنے ایک انٹرویو میں دلائی لامہ نے اپنے اس موقف کا پھر اعادہ کیا ہے کہ وہ اولمپک کے بائیکاٹ کے مخالف ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے تئیں چین کا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے۔ انہوں نے چین سے اپنے پیغام میں کہا: ’ ہم آپ کے مخالف نہیں ہیں اور ہمیں آپ سے علیحدگی بھی نہیں چاہیے۔‘ اس دوران جمعہ کو ارجنٹینا میں اولمپک مشعل کے سفر کے دوران بعض اکا دکا واقعات ہوئے ہیں لیکن کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ریلے کے دوران چین مخالف اور کھیل کے حامی سبھی جمع ہوئے تھے لیکن مشعل کو زیادہ مشکلیں نہیں آئيں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات پر بہت افسوس ہے کہ مشعل کو نشانہ بنایا جارہا جبکہ وہ نہ تو چین کی اور نہ بیجنگ کی بلکہ یہ تو انسانیت کی مشعل ہے۔ اس سے قبل چین کی اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی نے کہا تھا کہ اولمپک مشعل کے سفر کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ اولمپک مشعل کے عالمی سفر کے دوران لندن اور پیرس میں مظاہرین نے اسے بجھانے اور چھیننے کی کوششیں کی تھیں۔ بیجنگ اولمپک کمیٹی کے ترجمان سن ویڈ نے لندن اور پیرس میں مشعل کے سفر میں خلل ڈالنے کی سخت مذمت کی اور میڈیا کو بتایا کہ ’دنیا کی کوئی طاقت اس مشعل کا سفر نہیں روک سکتی۔‘ | اسی بارے میں ’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘08 April, 2008 | آس پاس سفارتکاروں کو دورۂ تبت کی دعوت28 March, 2008 | آس پاس ’تبت میں80 مظاہرین ہلاک‘16 March, 2008 | آس پاس تبت:فسادیوں کو پیر تک کی مہلت15 March, 2008 | آس پاس دلائی لامہ کواعزاز، چین کی تنقید18 October, 2007 | آس پاس تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ17 April, 2006 | آس پاس چین میں قیدیوں پر ’تشدد‘ کے واقعات02 December, 2005 | آس پاس تبت سے دور رہیں: دلائی لامہ24 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||