BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتکاروں کو دورۂ تبت کی دعوت
تبت مظاہرے
سفارتکاروں کو تبت کے شہر لاسہ کے دو روزہ دورے کی دعوت دی گئی ہے
تبت میں حالیہ پرتشدد جھڑپوں پر عالمی برادری کی سخت نکتہ چینی کے بعد چین نے بعض غیر ملکی سفارتکاروں کو تبت لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

چین نے برطانیہ، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک کو تبت کے شہر لاسہ کے دو روزہ دورے کی دعوت دی ہے۔

امریکہ نے چین کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کو لاسہ کے نواحی علاقوں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔

امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے اس دورے کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے‘ لیکن انہوں نے مزید کہا ’یہ ہمارے سفارتکاروں اور دیگر اہلکاروں کے لاسہ جانے اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لینے کا متبادل نہیں ہے‘۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے علاوہ جاپان اور آسٹریلیا سے کل سترہ سفارتکار لاسہ جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سفارتکاروں کا دورہ جمعہ سے شروع ہوگا اور سنیچر کو وہ لوگ واپس آ جائيں گے۔اس دورے کے بعد غیر ملکی صحافیوں کا ایک گروپ بھی شہر کا دورہ کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد