سفارتکاروں کو دورۂ تبت کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت میں حالیہ پرتشدد جھڑپوں پر عالمی برادری کی سخت نکتہ چینی کے بعد چین نے بعض غیر ملکی سفارتکاروں کو تبت لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے برطانیہ، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک کو تبت کے شہر لاسہ کے دو روزہ دورے کی دعوت دی ہے۔ امریکہ نے چین کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کو لاسہ کے نواحی علاقوں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔ امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے اس دورے کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے‘ لیکن انہوں نے مزید کہا ’یہ ہمارے سفارتکاروں اور دیگر اہلکاروں کے لاسہ جانے اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لینے کا متبادل نہیں ہے‘۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے علاوہ جاپان اور آسٹریلیا سے کل سترہ سفارتکار لاسہ جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سفارتکاروں کا دورہ جمعہ سے شروع ہوگا اور سنیچر کو وہ لوگ واپس آ جائيں گے۔اس دورے کے بعد غیر ملکی صحافیوں کا ایک گروپ بھی شہر کا دورہ کرے گا۔ | اسی بارے میں ’تبت میں80 مظاہرین ہلاک‘16 March, 2008 | آس پاس تبت:فسادیوں کو پیر تک کی مہلت15 March, 2008 | آس پاس تبت میں چین مخالف احتجاج14 March, 2008 | آس پاس بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||