BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 April, 2008, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘
تبتی مظاہرہ
گولڈن گیٹ برج پر تبت کے حق میں بینر لگانے پرگرفتاریاں ہوئی ہیں
چینی حکام کا کہنا ہے کہ اولمپک مشعل کے سفر کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشعل کے عالمی سفر کے دوران لندن اور پیرس میں مظاہرین نے اسے بجھانے اور چھیننے کی کوششیں کی اور اب امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی مشعل کے سفر میں مظاہروں کا خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے۔

بیجنگ اولمپک کمیٹی کے ترجمان سن ویڈ نے لندن اور پیرس میں مشعل کے سفر میں خلل ڈالنے کی سخت مذمت کی اور میڈیا کو بتایا کہ ’دنیا کی کوئی طاقت اس مشعل کا سفر نہیں روک سکتی۔‘

ادھر امریکی ریاست سان فرانسسکو میں سات افراد کو تبت کی حمایت میں مظاہرہ کرنے پرگرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے چین کے خلاف گولڈن گیٹ برج پر بینرز لگائے تھے۔

اولمپک مشعل پیرس اور لندن کے بعد اب سان فرانسسکو پہنچ رہی ہے۔ پیرس اور لندن میں مشعل کے سفر کے دوران سخت مظاہرے ہوئے تھے۔ پیرس میں مظاہرین کی وجہ سے مشعل کو تین بار بجھایا بھی گیا لیکن آگ کو ایک محفوظ لالٹین میں رکھا گیا تھا۔

سان فرانسسکو میں پولیس نے سات مظاہرین کو سازش اور امن و امان خراب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان میں سے تین افراد پر پل پر چڑھنے کا اضافی الزام بھی عائد کیا ہے۔ ان تین افراد نے پل پر ڈیڑھ سو فٹ اوپر چڑھ کر ’تبت کو آزاد کرو‘ کا بینر لگایا تھا۔ ان مظاہرین میں سے ایک لورل سدرلن نے پل پر چڑھ کر موبائل فون سے صحافیوں سے بھی بات چیت کی اور کہا کہ ’اگر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے مشعل کو تبت میں سفر کرنے کی اجازت دی تو تبت میں کیے گئے خون خرابے میں حصہ دار ہو جائے گی‘۔

دوسری طرف امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کی ممکنہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے امریکی صدر جارج بش سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر چین اپنا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ بہتر نہیں کرتا تو وہ بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کریں ۔

یاد رہے کہ مظاہروں کی وجہ سے ہی پیرس کے میئر نے مشعل کا خیر مقدم کرنے کی تقریب منسوخ کر دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گرین پارٹی کے کارکنان نے تبتی جھنڈا لہرایا اور ہتھکڑیوں سے اولمپک کا نشان بنایا۔

اس سے قبل اتوار کے روز لندن میں بھی مشعل کی پریڈ کے دوران اسے چھیننے کی کوشش کے بعد ستائیس مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایک موقع پر لندن میں بھی یہ مشعل ایک بس میں رکھ دی گئی تھی تاکہ یہ مظاہرین سے محفوظ رہے۔

اولمپک مشعل کو پچھلے ہفتے یونان کے شہر اولمپیا میں روشن کیا گیا تھا اور اب یہ بیس مختلف ممالک کا سفر کرنے کے بعد آٹھ اگست کو بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں پہنچائی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد