اولمپک مشعل دو مرتبہ بجھانا پڑگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیرس اولمپک مشعل ریلی میں تبتی مظاہرین کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو اولمپک مشعل کو دو مرتبہ بجھانا پڑا۔ بیجنگ اولمپکس کے تناظر میں مشعل کے لیے منعقد کی جانے والی ریلی کے خلاف مظاہرین پیرس بھر میں پھیل گئے ہیں۔ چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں دو مظاہرین بھی شامل ہیں۔ ان مظاہرین نے تبت پر چین کی پالیسی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ سرکاری اہلکاروں کو دو مرتبہ مشعل بجھا کر اس کے تحفظ کے لیے ایک بس میں بھیجنا پڑی۔ اس سے قبل عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر جیکوئز روگ نے تبت میں ہونے والے ہنگاموں اور اس کے نتیجے میں مشعل کے خلاف ہونے والے احتجاج پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل اتوار کے روز لندن میں بھی مشعل کی پریڈ کے دوران اسے چھیننے کی کوشش کے بعد ستائیس مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایک موقع پر لندن میں بھی یہ مشعل ایک بس میں رکھ دی گئی تھی تاکہ یہ مظاہرین سے محفوظ رہے۔
لندن کے واقعات کے بعد پیرس میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے تھے جن میں تین ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ اٹھائیس کلومیٹر لمبی اس پریڈ کے لیے جس میں اسی افراد مشعل لے کر دوڑیں گے، پینسٹھ پولیس اہلکار موٹر سائیکلوں پر ، دو سو رولر بلیڈز پر جبکہ دو سو دیگر اہلکار پریڈ روٹ پر تعینات کیے گیے۔ مظاہرے میں تقریباً پانچ سو مظاہرین نے حصہ لیاجن میں زیادہ تر ایفل ٹاور کے قریب تھے۔ روایت کے مطابق اولمپک کی اس مشعل کو پچھلے ہفتے یونان کے شہر اولمپیا میں روشن کیا گیا تھا اور اب یہ بیس مختلف ممالک کا سفر کرنے کے بعد آٹھ اگست کو بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں پہنچائی جائے گی۔ یہ مشعل سولہ اپریل کو اسلام آباد پہنچے گی۔ یہ مشعل اتوار کی رات پیرس پہنچائی گئی جہاں اسے فرانس میں چین کے سفیر نے لیا اور اس کے بعد چینی سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسے بیس موٹر سائیکل سوار فرانسیسی پولیس افسران کی نگرانی میں ایک ہوٹل میں پہنچایا گیا جس کا پولیس نے گھیراؤ کر رکھا ہے۔ پیرس کی پولیس اس مشعل کے گرد دو سو میٹر کا گھیراؤ بنائے گی تاکہ اسے مظاہرین سے بچایا جاسکے۔ پیرس کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ اس مشعل کو کسی ریاست کے سربراہ کی طرح تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ پیرس ہی میں مقیم میڈیا کے ادارے، ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کے سربراہ رابرٹ مینارڈ کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ پیر کے روز پیرس تیاننمن سکوائر جیسا لگے اور یہ ایک شرمناک بات ہے۔ مسٹر مینارڈ نے کہا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے پیش نظر اپنے احتجاج کے منصوبوں میں تبدیلی کر دی ہے لیکن ’اس سب کے باوجود وہ ایک شاندار‘ احتجاج کریں گے۔ مسٹر مینارڈ کو یونان کے شہر اولمپیا میں مشعل کو روشن کیے جانے کی تقریب میں خلل ڈالنے کی وجہ سے پچھلے ہفتے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ پیرس کے میئر نے بھی کہا ہے کہ وہ آج شہر میں ایک بہت بڑا بینر آویزاں کریں گے جس پر یہ لکھا ہوگا کہ ’پیرس دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دفاع کرتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||