BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشین گیمز: ’پاک بھارت میزبانی‘

اولمپک
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے فورم کا عنوان بھی کھیل برائے امن ہے
کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد پاکستان اور بھارت ایشین گیمز کی مشترکہ میزبانی بھی کرسکتے ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) سید عارف حسن یہ تجویز یونان میں منعقدہ بین الاقوامی فورم کے موقع پر بھارتی اولمپک کمیٹی کے حکام کے سامنے رکھنے والے ہیں۔

یونان میں اولمپیا کے مقام پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے زیراہتمام تین روزہ فورم جمعہ سے شروع ہورہا ہے، جس کا موضوع ہے ’امن کے لیے کھیل‘۔

عارف حسن اس فورم میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یونان روانگی سے قبل انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایشین گیمز کی مشترکہ میزبانی کی تجویز قابل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں بھارتی اولمپک کمیٹی سے بات کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت2014 کے ایشین گیمز کی میزبانی کا امیدوار تھا، لیکن گزشتہ ماہ اولمپک کونسل آف ایشیا کے اجلاس میں قرعۂ فال جنوبی کوریا کے شہر اینشاں کے نام نکلا۔

پاکستان اور بھارت 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل دونوں پڑوسی ملک1987 اور1996 کے عالمی کپ کرکٹ مقابلوں کے بھی مشترکہ میزبان بن چکے ہیں۔

کرکٹ ڈپلومیسی
 صدر ضیاء الحق اور صدر پرویز مشرف نے بھی پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی اختیار کی، تاہم دوسرے کھیلوں نے بھی پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے
جنرل عارف حسن

یونان میں منعقدہ انٹرنیشنل فورم کے موضوع کے تناظر میں عارف حسن پاک بھارت سپورٹس ڈپلومیسی پر لیکچر بھی دینگے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ برصغیر میں کرکٹ بے انتہا مقبول ہے، اس لیے میڈیا کوریج بھی سب سے زیادہ کرکٹ کو ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ضیاء الحق اور صدر پرویز مشرف نے بھی پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی اختیار کی، تاہم دوسرے کھیلوں نے بھی پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سید عارف حسن نے کہا کہ جب پاکستان نے سیف گیمز کا انعقاد کیا تو بھارت میں اس کے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کے سلسلے میں خدشات ظاہر کئے گئے تھے، لیکن بھارتی کھلاڑیوں کو زبردست مہمان نوازی ملی بلکہ انہیں ان کے مقدس مقامات پر بھی لے جایا گیا۔

اسی طرح بھارتی پولو ٹیم کا بھی پاکستان میں بھرپور استقبال کیا گیا اور جواباً پنجاب گیمز میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑی بھارت گئے تو انہیں بھی وہاں محبت ملی۔ ٹینس والی بال اور سنوکر کے علاوہ کئی دوسرے کھیلوں میں بھی پاکستان اور بھارت کے روابط موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے میں مدد ملی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد