ایشین گیمز: ’پاک بھارت میزبانی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد پاکستان اور بھارت ایشین گیمز کی مشترکہ میزبانی بھی کرسکتے ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) سید عارف حسن یہ تجویز یونان میں منعقدہ بین الاقوامی فورم کے موقع پر بھارتی اولمپک کمیٹی کے حکام کے سامنے رکھنے والے ہیں۔ یونان میں اولمپیا کے مقام پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے زیراہتمام تین روزہ فورم جمعہ سے شروع ہورہا ہے، جس کا موضوع ہے ’امن کے لیے کھیل‘۔ عارف حسن اس فورم میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یونان روانگی سے قبل انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایشین گیمز کی مشترکہ میزبانی کی تجویز قابل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں بھارتی اولمپک کمیٹی سے بات کریں گے۔ واضح رہے کہ بھارت2014 کے ایشین گیمز کی میزبانی کا امیدوار تھا، لیکن گزشتہ ماہ اولمپک کونسل آف ایشیا کے اجلاس میں قرعۂ فال جنوبی کوریا کے شہر اینشاں کے نام نکلا۔ پاکستان اور بھارت 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل دونوں پڑوسی ملک1987 اور1996 کے عالمی کپ کرکٹ مقابلوں کے بھی مشترکہ میزبان بن چکے ہیں۔
یونان میں منعقدہ انٹرنیشنل فورم کے موضوع کے تناظر میں عارف حسن پاک بھارت سپورٹس ڈپلومیسی پر لیکچر بھی دینگے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ برصغیر میں کرکٹ بے انتہا مقبول ہے، اس لیے میڈیا کوریج بھی سب سے زیادہ کرکٹ کو ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ضیاء الحق اور صدر پرویز مشرف نے بھی پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی اختیار کی، تاہم دوسرے کھیلوں نے بھی پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سید عارف حسن نے کہا کہ جب پاکستان نے سیف گیمز کا انعقاد کیا تو بھارت میں اس کے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کے سلسلے میں خدشات ظاہر کئے گئے تھے، لیکن بھارتی کھلاڑیوں کو زبردست مہمان نوازی ملی بلکہ انہیں ان کے مقدس مقامات پر بھی لے جایا گیا۔ اسی طرح بھارتی پولو ٹیم کا بھی پاکستان میں بھرپور استقبال کیا گیا اور جواباً پنجاب گیمز میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑی بھارت گئے تو انہیں بھی وہاں محبت ملی۔ ٹینس والی بال اور سنوکر کے علاوہ کئی دوسرے کھیلوں میں بھی پاکستان اور بھارت کے روابط موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے میں مدد ملی ہے۔ | اسی بارے میں ’ہمارے پاس ایک پیسہ نہیں ہے‘ 17 April, 2007 | کھیل کھیلوں کے اعلٰی حکام کی طلبی20 January, 2007 | کھیل ایشین گیمز سے زیادہ توقعات نہیں25 November, 2006 | کھیل ثقلین، سہیل، وسیم ایشین گیمز سے باہر11 October, 2006 | کھیل سہیل اور وسیم تربیتی کیمپ میں 03 October, 2006 | کھیل ثقلین کا کریئر خطرے سے دوچار؟09 October, 2006 | کھیل انڈیا: ایشیائی کھیلوں کا بھی متمنی 30 March, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||