نئی انسانی حقوق کونسل کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد کو منظوری دیدی ہے جس کے تحت ایک نئی ہیومن رائٹس کونسل کا قیام عمل میں آئے گا۔ انسانی حقوق کی یہ کونسل اقوام متحدہ کے موجودہ ادارے ہیومن رائٹس کمیشن کی جگہ لےگی۔ انسانی حقوق کے موجودہ کمیشن پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ رکن ممالک اس کے اقدار اور مقاصد پر عمل نہیں کرتے۔ نئی کونسل میں سینتالیس رکن ممالک ہوں گے جبکہ انسانی حقوق کمیشن میں کل ترپن اراکین ہوتے تھے۔ امریکہ نے نئی کونسل کی قرارداد کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ یہ اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ امریکہ کے علاوہ اس قرارداد کی مخالفت میں اسرائیل، مارشل آئلینڈز اور پلاؤ نے ووٹ دیے۔ نئی کونسل کے قیام کی قرارداد پر مہینوں سے جنرل اسمبلی کے اراکین کی بات چیت چل رہی تھی۔ اراکین کے درمیان اس بات پر اتفاق تھا کہ اصلاحات کی غرض سے انسانی حقوق کے کمیشن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ نئی کونسل میں ایسے ممالک کی بھی رکنیت برقرار رہے گی جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ اس بارے میں امریکہ نے کیوبا اور سوڈان کی مثال پیش کی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین، سوڈان، کیوبا، زمبابوے اور سعودی عرب انسانی حقوق کمیشن کے رکن چنے گئے تھے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ پر شدید تنقید کی گئی کہ ان ممالک کا انتخاب کیوں ہوا جب ان ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی عام بات ہے۔ نئی کونسل کے قیام کے بارے میں پیش کی جانے والی قرارداد کے خلاف ووٹ دینے کے باوجود اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا کہ امریکہ نئی انسانی حقوق کونسل کو مؤثر بنانے کے لیے کام کرے گا۔ نئی انسانی حقوق کونسل کے اراکین خفیہ ووٹنگ کے عمل کے ذریعے اکثریت سے منتخب کیے جائیں گے۔ ریگولر وقفے پر کونسل کے اراکین کی رکنیت پر غور کیا جائے گا۔ اگر کوئی ملک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی رکنیت معطل کی جاسکتی ہے۔ امریکہ نے کہا تھا کہ کونسل کے رکن ممالک کی تعداد کم ہونی چاہئے تھی تاکہ وہی ممالک اس کے رکن بنیں جو انسانی حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔ امریکی موقف یہ بھی تھا کہ کونسل کے اراکین کا انتخاب اکثریت سے نہیں بلکہ دو تہائی ووٹوں سے ہونا چاہئے۔ | اسی بارے میں ’انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے‘11 March, 2005 | آس پاس انسانی حقوق: نئے ادارے کی ضرورت07 April, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں، آربر کی تنقید ’مسترد‘08 December, 2005 | آس پاس دارفور میں ملیشیا متحرک: رپورٹ28 August, 2004 | آس پاس سوڈان حکومت پرہلاکتوں کا الزام01 February, 2005 | آس پاس ’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘21 July, 2005 | آس پاس اقوام متحدہ ایکشن لے: یورپ، امریکہ12 January, 2006 | آس پاس ’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘ 10 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||