خفیہ جیلیں، آربر کی تنقید ’مسترد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے دہشت گردی مخالف امریکی جنگ میں اختیار کیے جانے والے طریقوں پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمِشنر لوئیز آربر کی تنقید ’مسترد‘ کی ہے۔ لوئیز آربر نے کہا تھا کہ امریکہ بیرون ملک خفیہ مقامات پر مشتبہ شدت پسندوں کی جو تفتیش کررہا ہے اس سے اس کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوگی۔ آربر نے یہ بھی کہا کہ وہ ان خفیہ مقامات کا دورہ کرنا چاہیں گی۔ امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا کہ صرف ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کی بنا پر امریکی طریق کار کی تنقید کرنا لوئیز آربر جیسے عالمی سوِل سرونٹ کے لیے غیرمناسب اور غیراخلاقی ہے۔ آربر کینیڈا کے سپریم کورٹ کی ایک سابق جج ہیں۔ بدھ کے روز انہوں نے نیویارک میں نامہ نگاروں سے کہا کہ تفتیش کے دوران قیدیوں پر اذیت نہ ڈھانے کا بین الاقوامی قانون دہشت گردی مخالف جنگ کی نذر ہورہا ہے۔ انہوں نے ان رپورٹوں کی نشاندہی کی کہ امریکہ ایک پالیسی کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے بیرون ملک بھیج رہا ہے اور قیدیوں کو خفیہ مقامات پر رکھا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں عرب دنیا کے منی گونتاناموبے09 February, 2005 | آس پاس ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: تحقیقات کا آغاز09 November, 2005 | آس پاس سی آئی اے تنازعہ، رائس مرکل ملاقات06 December, 2005 | آس پاس رائس: انکار بھی، اعتراف بھی05 December, 2005 | آس پاس ’قیدیوں پر تشدد کی کہانی‘09 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||