جنوبی ایشیا: انسانی حقوق کی پامالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائٹس واچ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سیکورٹی فورسز کی طرف سے قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار تھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سال دو ہزار پانچ کی رپورٹ میں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی میں سیکورٹی فورسز پر اجتماعی سزائیں دینے، ماورائے عدالت قتل کرنے، گرفتاریوں اور جیلوں تک رسائی نہ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے عورتوں کے خلاف جرائم پر بھی صدر مشرف کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس ضمن میں تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں مختار مائی کے کیس کا حوالہ بھی دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے سوا تمام ملکوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکااور نیپال میں علیحیدگی پسند تحریکوں کو دبانے کی کوششوں میں انسانی حقوق کی صورت حال ابتر ہوئی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ افغانستان میں پر تشدد بغاوت کی وجہ سے ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ اس خطے میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بھی ایک اہم مسئلہ رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اپنی سالانہ رپورٹ میں دنیا کے ستر ملکوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا تجزیہ کرتی ہے۔ بھارت تنظیم نے کہا ہے کہ نئی دلی کی حکومت نے نیپال میں گیانندرا کی حکومت کی طرف سے جہوری حقوق صلب کیے جانے کے بعد اس کی فوجی امداد بند کر کے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ میں بھارت کی حکومت کی طرف سے فوج اور پولیس کو علیحدگی پسند تحریکوں کو کچلنے کے لیے حاصل اختیارات پر نظر ثانی کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کو بھی سراہا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے جن علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں ان میں انسانی حقوق بری طرح پامال کیے جا رہے ہیں اور اس کے باوجود ان واقعات کے ذمہ دار فوج، سکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کوئی شفاف طریقے سے تحقیقات کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ افغانستان رپورٹ میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ افغانستان کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں میں طالبان دوبارہ اپنی تنظیم نو میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کمانڈروں اور جنگجو سردار سیاسی نظام میں حائل ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں منشیات کے کاروبار سے اپنے قبضے کو مضبوط کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو بھی شہریوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور گرفتاریوں کے دوران بجا طاقت کے استعمال پر تنقید کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: پانچ شدت پسسند ہلاک 17 January, 2006 | انڈیا فساد کی سیاست؟17 January, 2006 | آس پاس کوئٹہ میں یو این کے دفاتر بند17 January, 2006 | پاکستان ’برطانوی فوج کو طالبان سےلڑنا ہوگا‘18 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||