کشمیر: پانچ شدت پسسند ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں فوج کے ساتھ دو الگ الگ جھڑپوں میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ دونوں جھڑپیں سری نگر کے جنوبی علاقے میں ہوئی ہیں۔ پہلا واقعہ حکمراں کانگریس پارٹی کے ایک لیڈر کےگھر پر پیش آیا جبکہ دوسرا کلگام کے علاقے میں رونما ہوا۔ فوجی ترجمان کے مطابق گزشتہ رات شوپیان علاقے کے ایک کانگریسی رہنما نثار احمد دہل کے مکان میں دو شدت پسند داخل ہوگئے تھے۔ ان کو باہر نکالنے کے لیے شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے دوران یہ دونوں شدت پسند مارے گئے تاہم رہنما کا مکان بھی پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا شدت پسندوں کے ساتھ اس کانگریسی لیڈر کے تعلقات تھے یا پھر شدّت پسند زبردستی گھر میں گھس گئے تھے۔ دوسری جھڑپ ہیر پور کلگام کے علاقے میں ہوئی ہے اور فوجی ترجمان کے مطابق اس میں تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران کمیونسٹ پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما محمد یوسف تاری گامی کے ایک رشتے دار کو انتہا پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ مسٹر تاری گامی ریاستی اسمبلی کے رکن ہیں اور ان کے بھتیجے جاوید احمد محکمہ پولیس میں وائرلیس آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نےاس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یاد رہے کہ یوسف تاری گامی پر چند ماہ قبل سری نگر میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا لیکن وہ بچ گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں اس نے پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایک کونسلر عبد الوحید کو بھی گرفتار کیا تھا جو مبینہ طور پر سابق وزیرِاعلٰی مفتی محمد سعید کے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ | اسی بارے میں بھارت: نو فوجی، چھ باغی ہلاک20 September, 2005 | انڈیا سرینگر میں جھڑپ: دو فوجی ہلاک30 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||