’برطانوی فوج کو طالبان سےلڑنا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی نیٹو کے بارے میں سفیر وکٹوریہ نلینڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی سربراہی میں نیٹو فوج کو پھر سے سرگرم طالبان اور القاعدہ کے جنجگجوؤں سے لڑنا ہو گا۔ افغانستان میں نیٹو کی تعینات فوج کی سربراہی مئی میں برطانوی فوج کے پاس آ جائے گی۔ جنوبی افغانستان میں طالبان ملیشیا آج بھی سرگرم ہے اور اس نے حال ہی کئی حملوں میں نیٹو کے فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ امریکہ کی نیٹو کے بارے میں سفیر کا کہنا ہے کہ برطانوی سربراہی میں نیٹو فورس کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے لڑنا پڑے گا اور اس کو دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہو گی تاکہ دہشت گردوں کے پیچھے جا کر کارروائی کی جا سکے۔ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک بڑھ جائے گی۔ نیٹو کے ترجمان جیمز اپارتھورائے کا کہنا ہے دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالنا برطانوی فوج کی ترججیات میں شامل نہیں ہو گا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||