BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 04:33 GMT 09:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانوی فوج کو طالبان سےلڑنا ہوگا‘
جنوبی افغانستان میں طالبان ملیشیا دوبارہ سے سرگرم ہو گئی ہے۔
امریکہ کی نیٹو کے بارے میں سفیر وکٹوریہ نلینڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی سربراہی میں نیٹو فوج کو پھر سے سرگرم طالبان اور القاعدہ کے جنجگجوؤں سے لڑنا ہو گا۔

افغانستان میں نیٹو کی تعینات فوج کی سربراہی مئی میں برطانوی فوج کے پاس آ جائے گی۔

جنوبی افغانستان میں طالبان ملیشیا آج بھی سرگرم ہے اور اس نے حال ہی کئی حملوں میں نیٹو کے فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

امریکہ کی نیٹو کے بارے میں سفیر کا کہنا ہے کہ برطانوی سربراہی میں نیٹو فورس کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے لڑنا پڑے گا اور اس کو دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہو گی تاکہ دہشت گردوں کے پیچھے جا کر کارروائی کی جا سکے۔

افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک بڑھ جائے گی۔

نیٹو کے ترجمان جیمز اپارتھورائے کا کہنا ہے دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالنا برطانوی فوج کی ترججیات میں شامل نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد