چیچنیا:انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ میں انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ تھامس ہیمر برگ نے جنگ سے متاثرہ روسی ریاست چیچنیا میں حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ لوگوں سے جھوٹے اقبالی بیان حاصل کرنے کے لیے ایزا رسانی کا سہارا لے رہے ہیں۔ مسٹر ہیمر برگ چیچنیا کےتین روزہ دورے پر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دوران انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد دیکھے ہیں۔ مسٹر ہیمر برگ کے ہمراہ بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ چیچنیا میں گھومنے سے اب یہ تاثر ملتا ہے کہ وہاں گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ بالآخر ختم ہوگئی ہے۔ ہر طرف تعمیر کا کام جاری ہے۔ چند سال پہلے دارالحکومت گروزنی کھنڈروں میں تبدیل ہوگیا تھا لیکن آج وہاں زندگی رواں دواں ہے اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
لیکن جنگ بھلے ہی ختم ہو گئی ہو، لوگوں کی مصیبتیں ختم نہیں ہوئیں اور یہی بات مسٹر ہیمر برگ کے بیان سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ہیمر برگ کہتے ہیں کہ ’وسیع پیمانے پر لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور اور جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے بہت سوں کو ایزیتیں پہنچائی گئی ہیں۔ میری ایک سفارش یہی ہوگی کہ اسے فوراً ختم ہونا چاہیے۔‘ مسٹر ہیمرگ نے یہ بھی کہا کہ جتنے بھی قیدیوں سے انہوں نے بات کی ان میں سے ہر ایک نے زیادتی کی شکایت کی۔ کسی کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تو کسی کو بجلی کے شاک دیے گئے تاکہ وہ تنگ آ کر اقبالی بیان دے دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو تو اتنی دیر دو زانوں بٹھایا گیا کہ اس کی ایک ٹانگ مستقبل طور پر فالج کا شکار ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں روسی صحافی کے قاتل کی تلاش08 October, 2006 | آس پاس بیسلان کے حملہ آور کو عمر قید 26 May, 2006 | آس پاس روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز04 May, 2006 | آس پاس ایک کروڑ ڈالر کی مخبری15 March, 2005 | آس پاس مسخادوف ہلاک کر دیے گئے08 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||