BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیسلان کے حملہ آور کو عمر قید
نور پاشی
نور پاشی کا کہنا ہے کہ ان پر محبوس لوگوں کو مارنے کا الزام محض ایک ’طلسماتی کہانی‘ ہے
بیسلان سکول پر حملہ کرنے والوں میں سے اکیلے زندہ بچ جانے والے حملہ آور کو جنوبی روس کی ایک عدالت نے قتل اور دہشتگردی کا مجرم پایا ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے ججوں نے کہا کہ اگرچہ چیچنیا سے تعلق رکھنے والے نور پاشی کلایو سزائے موت کے مستحق ہیں لیکن چونکہ روس میں یہ ممکن نہیں اس لیے انہوں نے نور پاشی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

نور پاشی نے، جو کہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی ہیں، اس الزام سے انکار کیا کہ اس نے سنہ دو ہزار چار میں بیسلان کے سکول میں بقوں کو قتل کیا تھا۔ اس حملے میں تین سو تیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کئی بچے شامل تھے۔

مقدمے کی کارروائی ایک سال جاری رہی اور اس میں نہایت جذباتی لمحات بھی آئے۔

بتیس مسلح چیچن باغیوں نے شمالی اوسیٹیا کے علاقے بیسلان میں سکول پر قبضہ کر کے سکول کے عملے اور طالب علموں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ نور پاشی زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور تھے۔

نور پاشی کلایو پر الزامات کی فہرست
رہزنی
دہشت گردی
قتل
سیکورٹی اہلکاروں کے قتل کی کوشش
لوگوں کو قید میں رکھنا
ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا غیرقانونی حصول

فیصلے کے دن مرنے بچے والے بچوں کی مائیں عدالت میں موجود تھیں۔ سیاہ کپڑوں میں ملبوس ان خواتین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’ ان حکام کے لیئے کوئی معافی نہیں ہے جنہوں نے بیسلان کا واقعہ ہونے دیا۔‘

فیصلے کے بعد جب نور پاشی کو عدالت سے لیجایا جا رہا تھا تو چند خواتین نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جبکہ باقی روتے ہوئے عدالت کے آہنی دروازے پر سر پٹخ رہی تھیں۔

نوری پاشی نے مقدمے کی کارروائی کے دوران یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے سکول کے محاصرے میں حصہ لیا لیکن انہوں نے لوگوں کو ہلاک کرنے کے الزام سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر محبوس افراد کو مارنے کا الزام محض ایک ’طلسماتی کہانی‘ ہے۔

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران ملزم کا رویہ ’مناسب اور تحمل والا تھا‘۔

عمر قید کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے استغاثہ کے سرکاری وکیل نے کہا کہ اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ نور پاشی کو موت کی سزا دی جاتی تاہم وہ عمر قید کے فیصلے سے مطمئن ہیں اور وہ اس کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کے مطابق اگرچہ اس مقدمے کا فیصلہ ہوگیا لیکن اس سے بات ختم نہیں ہوئی۔ لوگوں کی بڑی تعداد کو یہ یقین نہیں آ رہا کہ آخر حملہ آور اتنی زیادہ رکاوٹیں عبور کر نے میں کامیاب کیسے ہوئے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگوں کو شک ہے کہ حکومت نے سرکاری اہلکاروں کی غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

اسی بارے میں
موت کے قریب موت سے دور
10 September, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد