بیسلان کے حملہ آور کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیسلان سکول پر حملہ کرنے والوں میں سے اکیلے زندہ بچ جانے والے حملہ آور کو جنوبی روس کی ایک عدالت نے قتل اور دہشتگردی کا مجرم پایا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے ججوں نے کہا کہ اگرچہ چیچنیا سے تعلق رکھنے والے نور پاشی کلایو سزائے موت کے مستحق ہیں لیکن چونکہ روس میں یہ ممکن نہیں اس لیے انہوں نے نور پاشی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ نور پاشی نے، جو کہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی ہیں، اس الزام سے انکار کیا کہ اس نے سنہ دو ہزار چار میں بیسلان کے سکول میں بقوں کو قتل کیا تھا۔ اس حملے میں تین سو تیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کئی بچے شامل تھے۔ مقدمے کی کارروائی ایک سال جاری رہی اور اس میں نہایت جذباتی لمحات بھی آئے۔ بتیس مسلح چیچن باغیوں نے شمالی اوسیٹیا کے علاقے بیسلان میں سکول پر قبضہ کر کے سکول کے عملے اور طالب علموں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ نور پاشی زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور تھے۔
فیصلے کے دن مرنے بچے والے بچوں کی مائیں عدالت میں موجود تھیں۔ سیاہ کپڑوں میں ملبوس ان خواتین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’ ان حکام کے لیئے کوئی معافی نہیں ہے جنہوں نے بیسلان کا واقعہ ہونے دیا۔‘ فیصلے کے بعد جب نور پاشی کو عدالت سے لیجایا جا رہا تھا تو چند خواتین نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جبکہ باقی روتے ہوئے عدالت کے آہنی دروازے پر سر پٹخ رہی تھیں۔ نوری پاشی نے مقدمے کی کارروائی کے دوران یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے سکول کے محاصرے میں حصہ لیا لیکن انہوں نے لوگوں کو ہلاک کرنے کے الزام سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر محبوس افراد کو مارنے کا الزام محض ایک ’طلسماتی کہانی‘ ہے۔ جج نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران ملزم کا رویہ ’مناسب اور تحمل والا تھا‘۔ عمر قید کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے استغاثہ کے سرکاری وکیل نے کہا کہ اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ نور پاشی کو موت کی سزا دی جاتی تاہم وہ عمر قید کے فیصلے سے مطمئن ہیں اور وہ اس کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کے مطابق اگرچہ اس مقدمے کا فیصلہ ہوگیا لیکن اس سے بات ختم نہیں ہوئی۔ لوگوں کی بڑی تعداد کو یہ یقین نہیں آ رہا کہ آخر حملہ آور اتنی زیادہ رکاوٹیں عبور کر نے میں کامیاب کیسے ہوئے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگوں کو شک ہے کہ حکومت نے سرکاری اہلکاروں کی غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ | اسی بارے میں بیسلان ہلاکتیں : ’حکام بھی ذمہ دار‘29 November, 2005 | صفحۂ اول چیچن رہنما نے ذمہ داری قبول کی17 September, 2004 | آس پاس پوتن: دہشتگردی مخالف لڑائی یا اقتدار پر کنٹرول؟14 September, 2004 | آس پاس 50 بچوں کی حالت اب بھی سنگین 14 September, 2004 | آس پاس بسلان سانحے پر ہالی وڈ کی فلم19 May, 2006 | فن فنکار موت کے قریب موت سے دور10 September, 2004 | آس پاس بیسلان: سوگ اور اجتماعی تدفین 07 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||