موت کے قریب موت سے دور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب نقاب پوش دہشت پسند نے سفید دستانے والے اپنے ہاتھ کو ڈیٹونیٹر کی طرف بڑھایا تو لڑکا خوف سے کیمرے کی طرف دیکھنے لگا۔ اغوا کاروں کا بنایا ہوا ایک ویڈیو کیسٹ آج جب بر سر عام لایا گیا تو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح دس سالہ جیورجی فرنییو بیسلان کے سکول میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ بھی بہ آسانی ان 300 لوگوں میں سے ایک ہوسکتا تھا جو بیسلان میں مرگئے لیکن جیورجی کرامتی طور پر بچ گیا۔ جیورجی نے بی بی سی کے نامہ نگار سے کہا ”انہوں نے مجھ سے کہا تم چپ چاپ بیٹھے رہو ورنہ ہم 20 بچوں کو مار دیں گے”۔ جیورجی اس محاصرے میں گو بچ گیا لیکن اسکے ہاتھ اور پیر میں خراشیں آگئیں ہیں جنکا علاج جاری ہے اور وہ خطرے سے باہر بتایا جاتا ہے۔ جیورجی کی ماں نے کہا ”وہ بہت ہی بد ترین اور اذیت ناک وقت تھا جب مجھے شناخت کرنے کے لئے مردہ بچوں کے ٹوٹے اعضاء دکھائے جاتے تو میں ہر بار لرز جاتی کہ کہیں یہ میرے بچے کے اعضاء تو نہیں؟ اور پھر اس میں اپنے بچے کے اعضاء نہ پاکر بے انتہا آرام محسوس کرتی ۔” بم کے دھماکوں، دہشت پسندوں اور روسی فوج کے درمیان ہورہی گولی باری کے درمیان جیورجی کس طرح بچ نکلا یہ اب تک بھی واضح نہیں ہے۔ اس ننھے بچے نے چالاکی اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے ایک اغوا کار سے پانی پینے کی اجازت مانگی۔ اور پھر موقع کا فائدہ اٹھاکر ایک ٹوٹے پائپ سے گزرتا ہوا باہر بھاگ نکلا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||