50 بچوں کی حالت اب بھی سنگین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی حکام کے مطابق بیسلان میں سکول کے محاصرے کے دوران زخمی ہونے کے بعد ماسکو کے ایک ہسپتال میں داخل کرائے جانے والے ایک سو بائیس میں سے پچاس بچوں کی حالت اب تک سنگین بتائی جاتی ہے۔ روسی محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق شدید زخمی ہونے والوں میں آدھی تعداد بچوں کی ہے۔ یورپی یونین میں شامل ملکوں میں سکول کے بچوں نے بیسلان کے سانحے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اعزاز میں منگل کے روز ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی۔ دریں اثناء اس سال ماسکو کے علاقے میں سکولوں کی تعمیرو مرمت کا کام کرنے والے بیس چچن شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ماسکو کے علاقائی سکیورٹی چیف نکولائی برکوف کے مطابق ان چچن شہریوں کو ماسکو کے مرکزی ایئرپورٹ کے قریب حراست میں لیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ بیسلان میں بارہ سو سے زائد افراد کو یرغمال بنانے والے شدت پسندوں نے سکول کی عمارت میں ہتھیار تعمیرو مرمت کے دوران چھپائے تھے۔ روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق بیسلان میں سکولوں کے کھولنے کے کام کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور تمام سکولوں کی عمارتوں کی تلاشی کی جا رہی ہے۔ روسی حکام کے مطابق بیسلان کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد تین سو اڑتیس ہو گئی ہے۔ ماسکو کے ہسپتال میں داخل کرائے گئے ایک سو بائیس افراد کے علاوہ ایک سو تئیس بچوں سمیت دو سو سات زخمیوں کا شمالی اوسیٹیا کے ایک ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||